تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 125

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 1935ء کی ہی کوئی مثال پیش کریں، خواہ انگریزوں کی قوم میں سے کریں، خواہ جرمنوں یا فرانسیسیوں میں سے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت میں احساس پیدا ہورہا ہے مگر مجھے اس امر کا افسوس ہے کہ ہمارے دوستوں میں ابھی استقلال نہیں اور وہ اس کی قیمت کو ابھی تک نہیں سمجھے اور اب میرا انشایہ ہے کہ دوستوں کے اندر استقلال پیدا کروں چاہے اس کے لئے مجھے ان کے گلوں میں جھولیاں ڈلوانی پڑیں اور بھیک منگوانی پڑے۔اب میں ان کے اندر وہ حالت پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی شکل سے ظاہر ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے در کے فقیر ہیں۔جس جس قدم کو اللہ تعالیٰ ضروری سمجھے گاوہ میں اُٹھاتا جاؤں گا اور جس رنگ میں وہ میری ہدایت کرتا جائے گا میں اسے پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔آج میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سال برا یہی پروگرام ہے جو سکیم میں بیان ہوا ہے۔پس شاعر اس کے متعلق نظمیں لکھیں، نقشے بنانے والے اس قسم کے نقشے تیار کریں۔اب میں عملی حصہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔سب سے اول یہ کہ میں سائیکلسٹوں کو جلد بھجوانا چاہتا ہوں۔پس چاہئے کہ سائیکلسٹ جلد از جلد دفتر میں حاضر ہوں تا ان کو میں کاموں پر بھیج سکوں۔ایک کام میں تو دیر بھی ہو چکی ہے وہ آج سے تین چار دن پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا اس لئے اب دیر نہیں ہونی چاہئے ، جن طالب علموں نے تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں ان میں سے پہلے اعلان کے علاوہ بھی بعض لوگ لئے جائیں گے۔بعض نئے کام نکلے ہیں اس لئے انٹرنس سے کم تعلیم رکھنے والے نوجوان جن کے اندر تبلیغ کا مادہ ہو، وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔“ ( مطبوعه الفضل 17 جنوری 1935ء) 125