تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 124
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 1935ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رنگ نہ ہو۔غرض میں پہلے کو نا جائز قرار نہیں دیتا مگر اب جو طریق میں نے تجویز کیا ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ اب یہی اسلامی طریق ہے اور اب جو ڈھال کی پناہ میں نہیں آئے گا وہ دشمن کے تیر کھائے گا۔بہر حال اس سال کے لئے ہمارا پروگرام یہی ہے اور ہر احمدی کو چاہئے کہ اسے یاد کر لے اور اس پر عمل کرے۔میرے دل میں یہ تحریک ہو رہی ہے کہ اس سکیم کے چارٹ تیار کرائے جائیں اور پھر انہیں ساری جماعت میں پھیلا دیا جائے ہر احمدی کے گھر میں وہ لگے ہوئے ہوں تا سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے ان پر نظر پڑتی رہے۔ہمارے خطیب ہر ماہ کم سے کم ایک خطبہ میں نئے پیرا یہ میں اسے دہرا دیا کریں تا احساس تازہ رہے۔پھر ہمارے شاعر اُردو اور پنجابی نظمیں لکھیں جن میں سکیم ، اس کی ضرورتیں اور فوائد بیان کئے جائیں جو بچوں کو یاد کر وا دی جائیں اور اگر اس طریق پر سال بھر کام کیا جائے تو جماعت میں بیداری پیدا کی جاسکتی ہے۔ایک دوست کا مجھے خط آیا ہے کہ ایک بڑے سرکاری افسر نے ان سے کہا کہ ہماری رپورٹ یہ ہے کہ اس سکیم کا جواب جماعت کی طرف سے اس جوش کے ساتھ نہیں دیا گیا لیکن کیا ہی عجیب بات ہے کہ حکومت قرضہ مانگتی ہے جس میں قرضہ دینے والوں کو زیادہ سے زیادہ نفع دیا جاتا ہے اور پھر اگر وہ دو گنا بھی ہو جائے تو تاریں دی جاتی ہیں کہ قرضہ میں بہت کامیابی ہوئی ہے لیکن ہم نے جس قد ر طلب کیا تھا اس سے اڑھائی گنا آجانے کے باوجود انہیں اس میں کامیابی نظر نہیں آتی اور وقت مقررہ کے ختم ہونے تک انشاء اللہ العزیز پونے تین گنے بلکہ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ آ جائے مگر وہ قرض کے دو گنا وصول ہونے کو کامیابی سمجھتے ہیں مگر میرے اس مطالبہ کے جواب میں انہیں کامیابی نظر نہیں آتی۔حالانکہ میں نے جو مانگا ہے اس کی واپسی نہیں ہوگی وہ قرض نہیں چندہ ہے سوائے امانت فنڈ کے کہ وہ بے شک امانت ہے اور واپس ملے گا۔جو لوگ اسے کامیابی نہیں سمجھتے وہ دنیا کی کسی اور قوم میں اس کی مثال تو پیش کریں اور پھر ہم نے جو لیا ہے غریبوں کی جماعت سے لیا ہے کروڑ پتیوں اور لکھ پیتوں سے نہیں لیا گیا۔کروڑ پتی تو ہمارے مطالبہ سے بھی زیادہ رقم کی موٹریں ہی خرید لیتے ہیں۔بعض انگریزی موٹریں ایسی ہیں جن کی قیمت ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تک ہوتی ہے اس لئے ایسے لوگوں کے لئے 27 ہزار کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں مگر ہماری جماعت کی مالی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور جو لوگ اسے کامیابی نہیں سمجھتے میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی کسی اور قوم میں اس کے بالمقابل آدھی بلکہ اس کا چوتھائی حصہ قربانی 124