تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 115
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1934ء لئے کہ وہی ہمارے ہاتھ باندھ گیا ہے جس کے خلاف بد زبانی کر کے ہمیں دکھ دیا جارہا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ باندھ دیئے ہیں۔پس ہم بے بس ہیں۔اگر اس وقت ہم ایک دوسرے سے نہیں چمٹ جاتے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا باپ سمجھتے ہیں اور آپ کے خلاف بدزبانی کرنے والوں سے ہمیں صدمہ پہنچ رہا ہے؟ جب میری بیوی امتہ ابھی مرحومہ فوت ہوئیں تو بڑی لڑکی سات آٹھ سال کی تھی اور چھوٹی پانچ سال کی ماں کے فوت ہونے پر بڑی لڑکی مجھے چھٹ کر رونے لگی اور کہنے لگی کہ اب امتہ الرشید خلیل کو جوان کا چھوٹا بھائی ہے، کون پالے گا ؟ اس وقت وہ ساری لڑائیاں بھول گئی اور اپنے سے سب سے قریب چیز وہی بہن نظر آئی جس سے لڑتی رہتی تھی۔پس میں کس طرح مان لوں کہ ہم اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود کو اپنا باپ سمجھتے ہیں جبکہ ہم ایک دوسرے کو گلے سے پکڑنے کے لئے تیار ہوں؟ تمام احمدیوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ جاؤ اور اپنے دوسرے بھائیوں کے گلے سے لیٹے رہو۔حتی کہ حضرت مسیح موعود کے پاس پہنچ جاؤ۔مسجد اقصیٰ میں جب میں نے اعلان کیا کہ آپس کی ناراضگیاں دور کر دو اور بنیان مرصوص بن کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ تو قادیان کے احمدیوں نے کہا ہم ایسا ہی کرنے کے لئے تیار ہیں اور باہر کے احمدیوں نے لکھا کہ کاش! ہم بھی اس وقت موجود ہوتے۔آج باہر کے ہزاروں احمدی یہاں موجود ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ میں نے انہیں خدا کا پیغام پہنچا دیا۔تم اس وقت ایک یتیم قوم ہو تم پر مصائب پر مصائب آئیں گے اور تمہیں بھائیوں کی طرح رہنا ہو گا۔جاؤ! اپنے ان بھائیوں کے گلے مل جاؤ جن سے تمہیں کسی قسم کی ناراضگی اور رنج ہے، جاؤ اور ان سے مل جاؤ۔کیا میں نے تمہیں خدا کا یہ پیغام پہنچا دیا؟ اس پر تمام مجمع نے متفق اللسان ہو کر کہا ہاں حضور نے پیغام پہنچا دیا۔) پھر میں نے سادگی کی زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی ہے اس لئے کہ تم اعلیٰ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ، محنت اور مشقت برداشت کرنے کی تم میں طاقت پیدا ہو، مشکلات اور تکالیف برداشت کر سکو اور جب تمہارے پاس مال ہوگا تو تم اعلیٰ قربانی کرنے کے قابل ہو سکو گے۔دل کی قربانی سے مال مہیا نہیں ہوسکتا لیکن جب دل کی قربانی ہوگی اور تمہارے پاس مال بھی ہو گا تو اسے تم پیش کر سکو گے۔پس سادہ کھانا کھاؤ، سادہ کپڑے پہنو اور کفایت شعاری سے گزارہ کرو۔اپنی آمدنی میں سے چندے دو اور ایک حصہ امانت فنڈ میں جمع کراؤ۔پھر کچھ اپنے پاس بھی جمع کرو۔بعض کہتے ہیں کہ یہ دین کے خلاف ہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ کم از کم تنخواہ کا 1/4 115