تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 111
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 14 دسمبر 1934ء رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمارے لئے بہت برکت کا موجب بنائے گا ضرورت صرف استقلال کی ہے اُسی استقلال کی جو اس رمضان والے نے دکھایا! اسے ہر روز دق کیا جاتا اور سمجھ لیا جاتا کہ اب اس کی زبان ہم نے بند کر دی مگر دوسرے روز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پھر وہی بات پیش کر دیتے۔پس ضرورت ہے کہ دنیا ہم کو بےشرم کہے، بے حیا کہے ، پاگل کہے۔لوگ کہیں کہ یہ بہت بے شرم ہیں ہم نے ان کو سود فعہ منع کیا ہے کہ ہمارے سامنے یہ باتیں نہ کیا کرو مگر باز نہیں آتے ، یہ پاگل ہو گئے ہیں اور ان میں عقل کی کمی ہے۔جب یہ بات پیدا ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوگا۔قرآن کریم کے بعد کسی نئے کلام کی تو ضرورت نہیں اور جو نیا اُترے بھی وہ اسی کے تابع ہوتا ہے اس لئے کلام الہی کے نزول سے میرا مطلب یہ ہے کہ یہی کلام دوبارہ انسان کے دل پر اُترتا ہے جو اس غار حرا والے کی اتباع کرے۔اس پر ایسے ایسے قرآن کریم کے معارف کھولے جاتے ہیں کہ وہ خود حیران رہ جاتا ہے۔“ وو خدا کیلئے اپنے اوپر موت وارد کر لینے اور تاریکی قبول کر لینے کے سوا خدا کو ہم نہیں پاسکتے اس لئے ہمارے دوست اس ظاہری رمضان سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں تا جو روحانی رمضان ہم پر آیا ہوا ہے اس سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے رمضان اس لئے نازل کیا ہے تا لوگوں کو سہولت پہنچے اور وہ تنگی سے بچ جائیں لیکن ہم دیکھتے ہیں بظاہر ان دنوں میں زیادہ جنگی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: 185) ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ تم ایمان لاؤ اور پھر تنگیوں میں بسر کرو اس لئے ہم نے روزے فرض کئے تا تمہاری تنگیاں دور ہوں۔یہ ایسا نکتہ ہے جو مومن کو مومن بناتا ہے اور جو یہ ہے کہ روزہ میں بھوکا رہنا یا دین کے لئے قربانی کرنا انسان کے لئے کسی نقصان کا موجب نہیں بلکہ سراسر فائدہ کا باعث ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ رمضان میں انسان بھوکا رہتا ہے وہ قرآن کی تکذیب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بھوکے تھے ہم نے رمضان مقر کیا تائم روٹی کھاؤ۔پس معلوم ہوا کہ روٹی یہی ہے جو خدا کھلاتا ہے اور اصل زندگی اسی سے ہے اس کے سوا جو روٹی ہے وہ روٹی نہیں پتھر ہیں جو کھانے والے کے لئے ہلاکت کا موجب ہیں۔مومن کا فرض ہے کہ جو لقمہ اس کے منہ میں جائے اس کے متعلق پہلے دیکھے کہ وہ کس کے لئے ہے اگر تو وہ خدا کیلئے ہے تو وہی روٹی ہے اور اگر نفس کے لئے ہے تو وہ روٹی نہیں، جو کپڑا خدا کے لئے