تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 100

خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول آمد نیاں دے دی ہیں اور زیادہ تر حصہ بھی انہی لوگوں نے لیا ہے جو غر با یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور و انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ گو ان کے وسائل کمزور ہیں مگر دل وسیع ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی: بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيْبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا اسلام غریب ہی شروع ہوا اور آخر زمانہ میں پھر غریب ہو جائے گا۔کون ہے جو بچہ سے پیار کرتا ہے مگر اس کا باپ یا اس کی ماں؟ کون ہے جو بھائی سے پیار کرتا ہے مگر اس کا بھائی ؟ کون ہے جو غریب الوطن سے ہمدردی کرتا ہے مگر اس کا ہم وطن ؟ ان غریبوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی غربت میں بھی غریب اسلام کو نہیں بھولے کیونکہ وہ بھی غریب ہیں اور اسلام بھی غریب ! اور اس طرح وہ اس کے رشتہ دار ہیں اور اس کی غربت کی حالت کو دیکھنا پسند نہیں کرتے اور اپنے خون سے اس کی کھیتی کو سینچ کر وہ اس کی حالت کو بدلنا چاہتے ہیں۔رضی الله عنهم و رضواعنه۔بعض لوگ مالی لحاظ سے غریب ہوتے ہیں اور بعض دل کے غریب ہوتے ہیں اور دل کے غریب وہ ہوتے ہیں جو کبر محسوس نہ کریں۔میں نے بیسیوں تحریکیں اپنی خلافت کے زمانہ میں کی ہیں مگر کئی امرا اور علما ہماری جماعت کے ایسے ہیں کہ انہوں نے ان میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے اس لئے جو امرا دینی تحریکات میں حصہ لیتے ہیں ان کو بھی میں غربا میں ہی شامل کرتا ہوں کیونکہ وہ دل کے غریب ہیں۔تحدیث نعمت کے طور پر میں چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کی اکثر اولاد بالخصوص چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے آج تک کوئی تحریک ایسی نہیں کی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو خواہ وہ تحریک علمی تھی یا جسمانی یا مالی یا سلوک کی خدمت تھی انہوں نے فوراً اپنا نام اس میں پیش کیا اور پھر خلوص کے ساتھ اسے نباہا۔جب میں نے ریز روفنڈ کی تحریک کی تھی تو کئی لوگوں نے اپنے نام دیئے مگر ان میں سے صرف چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ہی ہیں جنہوں نے اسے پوری طرح نباہا اور ہزاروں روپیہ جمع کر کے دیا۔حالانکہ اس وقت ان کی پوزیشن ایسی نہ تھی جیسی اب ہے کہ کوئی خیال کرے کہ اپنے اثر سے روپیہ جمع کر لیا ہوگا۔چودھری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم گو 1900ء کے بعد داخل سلسلہ ہوئے مگر انہوں نے اخلاص کا بہت نیک نمونہ دکھایا اور وہی نمونہ کم و بیش ان کی اولاد میں بھی ہے اور ان کی اہلیہ میں بھی اخلاص کا وہی نیک نمونہ ہے بلکہ وہ صاحب کشوف بھی ہیں ان کو ہمیشہ سچے خواب آتے رہتے ہیں۔مجھے ان کی اولاد سے اس لئے بھی محبت ہے کہ جب میں نے آواز دی کہ جولوگ اپنے گزارہ کے لئے کافی 100