تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 99
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء پس کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالی کی طرف سے جماعتوں پر ایسے وقت بھی آتے ہیں کہ وہ امتیاز کرنا چاہتا ہے اس کا منشا یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو ثواب سے محروم رکھا جائے۔پس جن کو خدا پیچھے رکھنا چاہتا ہے انہیں آگے کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں اور ہم کون ہیں جو اس کی راہ میں کھڑے ہوں۔ہمارے مدنظر روپیہ نہیں بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ خدا کے دین کی شان کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالی غیرت والا ہے وہ کسی کے مال کا محتاج نہیں۔یہ مت خیال کرو کہ دین کی فتح اس ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ پر ہے اور کہ بعض لوگ اگر اس میں حصہ نہ لیں گے تو یہ رقم پوری کیسے ہوگی ؟ جب اللہ تعالیٰ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ ضرور کر دے گا۔اگر اللہ تعالی کا یہی منشا ہے کہ روپیہ پورا نہ ہوتو وہ اس کے بغیر بھی کام کر دے گا۔پس رقم کو پورا کرنے کے خیال سے زیادہ زورمت دو۔کارکنوں کا کام صرف یہی ہے کہ تحریک دوسروں تک پہنچا دیں اور دس پندرہ دن کے بعد پھر یاد دہانی کر دیں۔اسی طرح جماعتوں کے سیکریٹری بھی احباب تک اس تحریک کو پہنچا دیں۔یہ کسی کو نہ کہا جائے کہ اس میں حصہ ضرور لو۔جو کہتے ہیں ہمیں توفیق نہیں انہیں مت کہو کہ حصہ لیں کیونکہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ جو باوجود توفیق کے حصہ نہیں لیتے ان کا حصہ اس پاک تحریک میں شامل ہو۔اگر ایسا شخص دوسروں کے زور دینے پر حصہ لے گا تو وہ ہمارے پاک مال کو گندہ کرنے والا ہو گا۔پس ہمارے پاک مالوں میں ان کے گندے مال شامل کر کے ان کی برکت کم نہ کرو۔میں نے پچھلے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ غربا زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور ان کیلئے میں نے جو سہولتیں رکھی ہیں ان کو استعمال کر رہے ہیں اور غالباً یہ بھی کہا تھا کہ مالی طور پر ان کے روپیہ سے شاید زیادتی نہ ہو مگر اخلاص کے لحاظ سے ضرور ہوگی مگر اب معلوم ہوا ہے کہ غر با شاید مال کو بھی بڑھا دیں گے کیونکہ یہ ظاہر ہورہا ہے کہ جب انہوں نے لبیک کہا تھا تو ان کے دل کے ذرہ ذرہ سے لبیک کی صدا اٹھ رہی تھی اس کے بالمقابل بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو زیادہ حصہ لے سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں لیا اور بعض کو بظاہر جتنی توفیق تھی اس سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔جو لوگ میرے مخاطب تھے یعنی آسودہ حال ان میں سے اس وقت تک صرف پانچ چھ نے ہی حصہ لیا ہے۔میں نے آسودگی کا جو معیار اپنے دل میں رکھا تھا وہ یہ تھا کہ جو لوگ ڈیڑھ سو یا اس سے زیادہ آمد رکھتے ہیں وہ آسودہ حال ہیں۔ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو فی الواقعہ امیر ہوں متوسط طبقہ زیادہ ہے اور انہی کو ہم امیر کہہ لیتے ہیں مگر ہمارے متوسط طبقہ نے جو قربانیاں کی ہیں وہ اپنی شان میں بہت اہم ہیں۔بعض نے تو ان میں سے چار چار ماہ کی 99