تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 98
خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول دیتے تھے کہ کون ہے جو اپنا گھر جنت میں بنائے مگر عورتوں سے اصرار کے ساتھ وصول فرماتے تھے بلکہ فردا فردا اجتماع کے مواقع میں انہیں تحریک کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک عورت نے ایک کڑا اتار کر دے دیا تو آپ نے فرمایا دوسرا ہاتھ بھی دوزخ سے بچا۔پس عورتوں کے معاملہ میں اجازت ہے کہ ان میں زیادہ زور کے ساتھ تحریک کی جائے مگر مجبور انہیں بھی نہ کیا جائے اور مردوں پر تو زور بالکل نہ دیا جائے صرف ان تک میری تجاویز کو پہنچا دیا جائے اور جو اس میں شامل ہونے سے عذر کرے اسے ترغیب نہ دی جائے۔کارکن تحریک مجھے دکھا کر اور اسے چھپوا کر کثرت سے شائع کرا دیں اور چونکہ ڈاکخانہ میں بعض اوقات چٹھیاں ضائع ہو جاتی ہیں اس لئے جہاں سے جواب نہ ملے دس پندرہ روز کے بعد پھر تحریک بھیج دیں اور پھر جواب نہ آئے تو خاموش ہو جائیں۔اس طرح بیرونی جماعتوں کے سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ وہ میرے خطبات جماعت کو سنادیں جو جمع ہوں انہیں یکجا اور جو جمع نہ ہوں ان کے گھروں پر جا کر لیکن کسی پر شمولیت کے لئے زور نہ ڈالیں اور جو عذر کرے اسے مجبور نہ کریں۔تیسری بات یہ مد نظر رکھی جائے کہ ہندوستان کے احمدیوں کا چندہ پندرہ جنوری 35 ء تک وصول ہو جائے جو 16 جنوری کو آئے یا جس کے 15 جنوری سے پہلے پہلے وعدہ نہ کیا جا چکا ہوا سے منظور نہ کریں۔پہلے میں نے ایک ماہ کی مدت مقرر کی تھی مگر اب چونکہ لوگ اس مہینہ کی تنخواہیں لے کر خرچ کر چکے ہیں اس لئے میں اس کی میعاد کو 15 جنوری تک زیادہ کرتا ہوں جو تم 15 جنوری تک آ جائے یا جس کا وعدہ اس تاریخ تک آجائے وہی لی جائے۔زمیندار دوست جو فصلوں پر چندہ دے سکتے ہیں یا ایسے دوست جو قسط وار رو پی دینا چاہیں وہ 15 جنوری تک ادا کرنے سے متقی ہوں گے مگر وعدے ان کی طرف سے بھی 15 جنوری تک آجانے ضروری ہیں جو رقم یا وعدہ 16 جنوری کو آئے اسے واپس کر دیا جائے۔ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کیلئے میعاد یکم اپریل تک ہے جن کی رقم یا وعدہ اس تاریخ تک آئے وہ لیا جائے اس کے بعد آنے والا نہیں۔اس صورت میں جو لوگ اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے وعدے اس تاریخ کے اندر اندر بھیج دیں۔رقم فروری ، مارچ، اپریل میں آسکتی ہے یا جو دوست بڑی رقوم دس ہیں ہمیں، چالیس کی ماہوار قسطوں میں ادا کرنا چاہیں یا اس سے زیادہ دینا چاہتے ہوں انہیں سال کی بھی مدت دی جاسکتی ہے مگر ایسے لوگوں کے بھی وعدے عرصہ مقررہ کے اندر اندر آنے چاہئیں۔اس میعاد کے بعد صرف انہی لوگوں کی رقم یا وعدہ لیا جائے گا جو حلفیہ بیان دیں کہ انہیں وقت پر اطلاع نہیں مل سکی۔مثلاً جو ایسے نازک بیمار ہوں کہ جنہیں اطلاع نہ ہو سکے یا دور دراز ملکوں میں ہوں۔98