تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 97
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء جائے۔غربا پہلے بھی ایسا کرتے ہیں مگر مجبوری کے ماتحت۔اب وہ یہ کہیں گے کہ چونکہ مذہبی اخلاق کے حصول اور قومی ترقی کے لئے ہمیں یہ ہدایت ہے اس لئے ہم ایسا کرتے ہیں۔تیسرے میں نے دعا کو ضروری قرار دیا ہے کہ غریب ، امیر کے علاوہ اپاہج اور لنگڑے لولے بھی اس میں شامل ہوسکیں۔جو امیر اپاہج ہو وہ تو روپیہ دے کر بھی شریک ہو سکتا ہے لیکن غریب اپاہج کے لئے کوئی صورت نہ تھی اس لئے میں نے دعا کو ضروری قرار دے دیا ہے تا ایسے لوگ دعاؤں میں شریک ہو کر ثواب حاصل کر سکیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ گھر میں بیٹھی ہوئی عورت بلکہ چار پائی کے ساتھ چسپاں مریض بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے۔چوتھے سکیم کے اثر کو وسیع کرنے کے لئے اور اس خیال سے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شریک ہوں مالی قربانیوں میں میرے مخاطب گو پہلے امرا ہی تھے مگر میں نے یہ رعایت بھی کر دی ہے کہ جوغر بادس دس یا پانچ پانچ روپے نہ دے سکیں وہ کمیٹیاں ڈال کر ایک ایک روپیہ یا آٹھ آٹھ آنے جمع کر کے جس جس کے نام پر قرعہ نکلتا جائے جمع کراتے جائیں۔پانچویں بات اس کے فوائد کو وسیع کرنے کے لئے میں نے یہ رکھی ہے کہ اس سکیم کو اختیاری رکھا ہے۔میں نے سب حالات سامنے رکھ دیئے ہیں مگر ان کا علاج بھی بتا دیا ہے مگر یہ نہیں رکھا کہ جو حصہ نہ لے اسے سزا دی جائے بلکہ سزا و ثواب کو خدا تعالیٰ پر ہی چھوڑ دیا ہے تا جو حصہ لے اسے زیادہ ثواب ملے۔تحریکات دو قسم کی ہوتی ہیں: جبری اور اختیاری۔نماز جبری ہے اور نفل اختیاری اور دونوں ضروری ہیں۔جبر فائدہ کیلئے ہوتا ہے اور اختیار میں ثواب بڑھ جاتا ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بندہ نفل کے ذریعہ اپنے رب کے حضور ترقی کرتا ہے۔جماعت يُقِيمُونَ الصَّلوةَ سے ترقی کرے گی مگر افراد فضل سے۔تو یہ فرق ہے جو شریعت نے رکھا ہے۔اس کی تفاصیل بیان کرنے کا اس وقت موقع نہیں۔اس سکیم میں میں نے نفلی ترقی مد نظر رکھی ہے۔ہاں اس کے بعض حصے جبری ہیں جیسے سنیما کے متعلق حکم۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دونوں طرح سے کام لیتے تھے جنگ بدر کی بھرتی اختیاری تھی اور تبوک کی جبری! اس لئے میں ہدایت کرتا ہوں کہ اس تحریک کو چلانے والے مندرجہ ذیل باتوں کو مد نظر رکھیں۔1 - یہ کہ وہ صرف میری تجاویز کولوگوں تک پہنچادیں اس کے بعد مردوں پر اس میں شامل ہونے کے لئے زیادہ زور نہ دیں۔ہاں عورتوں تک خبر چونکہ مشکل سے پہنچتی ہے اور باہر کی مشکلات سے ان کو آگاہی بھی کم ہوتی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں میں تو چندہ کے لئے صرف اعلان کر 97