تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 96
خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول ہو سکتے ہیں جو اپنے دل میں یہ کہتے ہوں گے کہ ہم تو تین چار سے کم سالن پر گزارہ نہیں کر سکتے اور پھر وہ زبان سے اعتراض کریں گے کہ گاندھی جیسی تحریکیں شروع کر دی ہیں لیکن وہ غریب جسے یہ پتہ لگے کہ اس مجبوری کی حالت سے وہ ثواب حاصل کر سکتا ہے اور پھر بھی نہ کرے تو اس سے زیادہ بے وقوف کون ہو سکتا ہے اور ایسے غریب کی مثال تو اس شخص کی ہوگی جو گرمیوں کے موسم میں دھوپ میں بیٹھا تھا کسی نے اس سے کہا کہ میاں اٹھ کر سائے میں ہو جاؤ تو وہ کہنے لگا کیا دو گے؟ تو جو لوگ کھاتے ہی ایک سالن ہیں ان کا کیا حرج ہے کہ اسے عبادت بنالیں؟ جو غربا کا خیال کرتے ہیں کہ یہ ہدایت امیروں کے لئے ہی ہے، انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ بے شک امیر کے لئے ظاہری قربانی ہے مگر دل کی قربانی تو غریب کے لئے بھی ہے۔غریب سے غریب آدمی جسے فاقے بھی آجاتے ہوں اس پر بھی کبھی نہ کبھی ایسا موقع ضرور آ جاتا ہے کہ دو کھانے کھا سکے کبھی کوئی دوست تحفہ ہی بھیج دیتا ہے کبھی کوئی سبزی ترکاری اپنے کھیت میں سے یا اگر اپنی نہ ہوئی تو ہمسایہ سے مانگ کر ہی پکائی جاتی ہے، کچھ ساگ پکا لیا، کچھ دال بھی آلو بھی پکالئے اور شلغم بھی تو اس طرح غریب بھی بعض اوقات دو بھا جیاں بنا لیتے ہیں۔گوان میں گوشت نہیں ہوتا مگر ہنڈیاں دو کئی دفعہ وہ بھی پکا لیتے ہیں۔اب اگر ایسا شخص جسے کبھی کبھی ایسا ملتا ہے دوسرا سالن یا تر کاری چھوڑ دے تو اس کی یہ قربانی اس امیر سے زیادہ ہے جسے روز کا چسکا ہے۔پس غریب یہ نہ سمجھیں کہ وہ اس میں شامل نہیں ہو سکتے ، ہو سکتے ہیں اور ان کے لئے ثواب کے حصول کا ویسا ہی موقع ہے جیسا امرا کے لئے ، اس لئے جماعت کے ہر فرد کو اس میں شامل ہونے کا عہد کرنا چاہئے۔میں نے کہا تھا کہ جو دوست اس میں شامل ہوں وہ مجھے اطلاع دیں لیکن میں جانتا ہوں کہ بیسیوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے عہد تو کیا ہے مگر مجھے اطلاع نہیں دی۔قادیان کے صرف دو محلوں نے بحیثیت مجموعی اس کی اطلاع دی ہے ایک دَارُ السَّعَة اور ایک دارالرحمت محلہ دار الرحمت ہر تحریک میں دوسروں سے آگے رہتا ہے مگر اس تحریک میں دَارُالسَّعَہ بھی سبقت لے گیا ہے۔باقی کسی محلہ نے محلہ کے طور پر اطلاع نہیں دی۔(اس عرصہ میں دار البرکات نے بھی اطلاع دے دی ہے۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔) اگر چہ مجھے معلوم ہے کہ بیسیوں افراد ہیں جنہوں نے اس میں حصہ لیا ہے ان کے اطلاع نہ دینے کی دوہی و جہیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ وہ ڈرتے ہیں کہ شاید یہ عہد ٹوٹ نہ جائے اور یا پھر یہ کبر کی علامت ہے جب میں نے کہا ہے کہ وہ اطلاع دیں تو کیوں نہیں دیتے ؟ دوسری بات میں نے غربا کو شامل کرنے کیلئے یہ کہی ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پیدا کی 96