تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 95

تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء گیارھویں بات یہ مدنظر ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس درد میں ہماری شریک ہوسکیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک نعمت دی ہے کہ ہمارے دلوں میں درد پیدا کر دیا ہے۔گورنمنٹ نے جو ہماری ہتک کی یا احرار نے جو اذیت پہنچائی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ ہمارے دلوں میں درد کی نعمت پیدا کر دی اور وہی بات ہوئی جو مولا نا روم نے فرمائی ہے کہ ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است یعنی ہر آفت جو مسلمانوں پر آتی ہے اس کے نیچے ایک خزانہ مخفی ہوتا ہے۔پس یقینا یہ بھی ایک خزانہ تھا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا کہ جماعت کو بیدار کر دیا اور جو لوگ ست اور غافل تھے ان کو بھی چوکنا کر دیا۔پس یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو د نیوی نگاہ میں مصیبت تھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک رحمت تھا اور میں نے نہیں چاہا کہ اس سے صرف موجودہ نسل ہی حصہ لے بلکہ یہ چاہا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس سے حصہ پائیں اور میں نے اس سکیم کو ایسا رنگ دیا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس طریق پر نہیں جو شیعوں نے اختیار کیا ہے بلکہ عقل سے اور اعلیٰ طریق پر جو خدا کے پاک بندے اختیار کرتے آئے ہیں اسے یادر کھ سکیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اس کے علاوہ اور بھی فوائد ممکن ہے اس میں ہوں مگر یہ کم سے کم تھے جو میں نے بیان کر دیئے ہیں یا یوں کہو کہ یہ سکیم کا وہ حصہ ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بتایا۔اس سکیم کے ثواب کو وسیع اور فائدہ کو زیادہ کرنے کے لئے اس میں مندرجہ ذیل امور ہیں۔اول ایک سالن کھانا: اس میں سب شامل ہو سکتے ہیں ، امیر زیادہ کو کم کر کے ایک کھا سکتا ہے اور غریب تو کھاتا ہی ایک ہے۔بعض غریب خیال کرتے ہیں کہ ہمیں اس میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں مگر ایسا خیال کرنے والوں نے دراصل اس سکیم کے مغز کو نہیں سمجھا حالانکہ ان کا حق زیادہ ہے کہ ثواب میں شریک ہوں۔ثواب ہمیشہ نیت کا ہوتا ہے عمل کا نہیں۔دنیا میں کون ہے جو اپنی بیوی سے پیار نہیں کرتا اور وہ کون مؤمن ہے جو اپنی بیوی سے حسن سلوک نہیں کرتا ؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کے منہ میں اس لئے لقمہ ڈالتا ہے کہ اسے ثواب حاصل ہو، اس کیلئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔پس جو کام یوں بھی کئے جاتے ہیں وہ نیت کر لینے سے نیکی بن جاتے ہیں۔جولوگ ایک ہی سالن کھاتے ہیں وہ پہلے مجبوری سے کھاتے تھے مگر اب اگر نیت کر لیں تو یہی مجبوری ان کے لئے نیکی بن جائے گی اس لئے کوئی ایسا شخص نہیں جو اس میں شامل نہ ہو سکتا ہو بلکہ غربا زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔کئی امیر ایسے 95