تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 640 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 640

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 25 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول شک نہیں کہ اگر وہ کسی دوسرے روز آتے تو مجھے ان کیلئے خاص کھانا تیار کرانا پڑ تا لیکن عید کی وجہ سے چونکہ نسبتاً اچھا کھانا تھا میں نے سب گھروں سے کھانا جمع کر لیا اور نہ ہمیں کوئی تکلیف ہوئی اور نہ مہمانوں کو۔اگر سادہ زندگی کے لوگ عادی ہوں تو ہر روز کی دعوت بھی تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر دوستوں میں سادہ زندگی کی روح قائم ہو جائے تو لنگر خانہ کی ضرورت بھی نہیں رہتی اور مہمان نوازی میں بھی کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔آنے والا مہمان بھی یہ سمجھے گا کہ جو موجود ہو گا کھالوں گا اس لئے اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور میزبان یہ سمجھے گا کہ جو ہو گا وہ پیش کر دوں گا اس لئے اسے بھی کوئی تکلیف نہ ہو گی۔انسان کیلئے بعض اوقات پیسہ مہیا کر کے خرچ کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن خود فاقہ کر لینا مشکل نہیں ہوتا۔کسی شخص کے گھر کے دس آدمی ہیں تو اگر اس کے ہاں سو مہمان آجائے اور اس کے پاس طاقت نہ ہو تو اسے ضرور قرض لے کر ان کی مہمان نوازی کرنی پڑے گی لیکن اگر پانچ آجائیں تو گھر کے پانچ فاقہ کر کے ان کو کھلا سکتے ہیں۔فاقہ اختیار کرنا اختیاری امر ہے۔آخر روزے بھی تو رکھے ہی جاتے ہیں مگر روپیہ لانا اختیاری امر نہیں اس لئے سادہ زندگی میں انسان بغیر کسی بوجھ کے اپنا فرض ادا کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ایک دفعہ ایک مہمان آیا آپ نے ایک صحابی سے فرمایا تم اسے اپنے ہاں لے جاؤ۔وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔شاید کسی وقت ان کی حالت اچھی ہوگی۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سپر دمہمان کر دیا مگر ان دنوں ان کی حالت اچھی نہ تھی۔گھر میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ کھانا صرف ایک آدمی کا ہے اور صرف بچوں کیلئے کفایت کر سکتا ہے۔میاں بیوی نے یہ تجویز کی کہ بچوں کو تو بھوکا ہی سلا دو اور مہمان کو کھانا کھلا دو۔اب یہ بات ان کی طاقت میں تھی لیکن اگر اس وقت ان کو پیسہ مہیا کرنا پڑتا تو یہ مشکل تھا اور وہ مہمان کی خدمت میں ناکام رہتے یا پھر اگر یہ ضروری ہوتا کہ مہمان کو پلاؤ ہی کھلانا ہے تو اُس صحابی کو کہنا پڑتا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہیں لے جاسکتا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی طریق تھا کہ جو موجود ہوتا لا کر پیش کر دیتے۔یہ بات ان کے بس کی تھی کہ بچوں کو سلا دیں اور ان کا کھانا مہمان کو کھلا دیں۔اس پر عمل کرنے کیلئے وہ تیار ہو گئے لیکن اس کے علاوہ ایک مشکل اور تھی اور وہ یہ کہ مہمان کھانے میں ساتھ شامل ہونے پر اصرار کرے گا اور کھانا تھوڑا ہے۔آخر اس کا بھی حل سوچ لیا گیا۔اس زمانہ میں وہ دیئے جلائے جاتے تھے جن میں روئی کی بتی ڈالی جاتی ہے۔تجویز یہ ہوئی کہ : مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھیں تو میاں بیوی سے کہیں کہ روشنی ذرا تیز کر دو اور بیوی تیز کرنے کے بہانے بتی کو اس طرح انگلیوں سے پکڑ کر باہر کر دے کہ وہ بجھ جائے اور جب پھر جلانے کو کہا جائے تو کہہ دے کہ 640