تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 20
خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نہیں لکھا وہ بھی اس انتظار میں ہیں کہ سکیم شروع ہولے تو ہم بھی شامل ہو جائیں گے مگر میں بتاتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب تک اس کے لئے ماحول پیدا نہ کیا جائے۔یہ کہنا آسان ہے کہ ہمارا مال سلسلہ کا ہے مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرایہ پر، کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے پاس کچھ نہیں بچتا تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ میر اسب مال حاضر ہے؟ اس قسم کی قربانی نہ قربانی پیش کرنے والے کو کوئی نفع دے سکتی ہے اور نہ سلسلہ کو ہی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔سلسلہ اس کے ان الفاظ کو کہ میرا سب مال حاضر ہے کیا کرے؟ جبکہ سارے مال کے معنے صفر کے ہیں۔جس شخص کی آمد سوروپیہ اور خرچ بھی سورو پہیہ ہے وہ اس قربانی سے سلسلہ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ پہلے خرچ کو سو سے نوے پر نہیں لے آتا تب بے شک اس کی قربانی کے معنی دس فی صدی قربانی کے ہوں گے۔اس قسم کے دعوے کر دینا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ کہنے والا بے سوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہے وہ پیش تو سب مال کرتا ہے لیکن یہ غور نہیں کرتا کہ اس کے پاس تو مال ہے ہی نہیں۔ایک شخص کی اگر ایک پیسہ کی بھی جائیداد نہ ہو اور یہ کہے کہ میری ساری جائیداد حاضر ہے تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ بعض لوگ غلطی سے ایسی بات پیش تو کر دیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ کس حد تک قربانی کر سکتے ہیں؟ پس دیکھنے والی بات یہی ہے کہ قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے والے کس حد تک قربانی کر سکتے ہیں یا کس حد تک اپنے حالات میں تبدیلی کر سکتے ہیں؟ غرض جو شخص بغیر حالات کے تغیر کے کہتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے اگر تو وہ اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ میرے پاس تو دینے کو کچھ بھی نہیں ایسا دعویٰ کرتا ہے تو وہ منافق بے وقوف ہے لیکن اگر وہ بغیر غور کئے اخلاص کے جوش میں یہ دعوی کر دیتا ہے تو وہ مخلص بے وقوف ہے۔اگر عقلمند ہوتا تو اسے سوچنا چاہئے تھا کہ اس کے مال کا کون سا حصہ ہے جس کی وہ قربانی پیش کرتا ہے؟ جب تک وہ اپنے خرچ کو سو سے کم کر کے پچانوے، نوے یا ساٹھ ستر پر نہیں لے آتا وہ قربانی کر ہی کیا سکتا ہے؟ قربانی تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ ایسا شخص اپنے اخراجات کو کم کرے اور پھر کہے کہ میں نے اپنے اخراجات میں یہ تغیرات کئے ہیں اور ان سے یہ بچت ہوتی ہے جو آپ لے لیں۔پس ضروری ہے کہ قربانی کرنے سے پیشتر اس کے لئے ماحول پیدا کیا جائے اس کے بغیر قربانی کا دعویٰ کرنا ایک نادانی کا دعوی ہے یا منافقت۔یاد رکھو کہ یہ ماحول اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ نہ ہوں۔مرد اپنی جانوں پر عام طور پر پانچ دس فیصدی خرچ کرتے ہیں سوائے ان عیاش مردوں کے جو عیاشی 20