تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 63
63 قرآن کریم کی تعلیم ایک دوسرے پر سلامتی بھیجنے کا حکم دیتی ہے پھر ایک اور بات جو معاشرے کے لئے ، امن کے لئے ضروری ہے اس کا میں یہاں ذکر کر دوں۔پہلے ہی ذکر آنا چاہئے تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِايْتِنَا فَقُلْ سَلَمَ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوَى بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّهُ غَفُوْرٌ رَّحِيم (الانعام:55) اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہا کر تم پر سلام ہو۔تمہارے لئے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت فرض کر دی ہے۔یعنی یہ کہ تم میں سے جو کوئی جہالت سے بدی کا ارتکاب کرے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو یاد رکھے کہ وہ ( یعنی اللہ ) یقینا بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس یہ خوبصورت تعلیم ہے جو معاشرے کا حسن بڑھاتی ہے۔جب سلامتی کے پیغام ایک دوسرے کو بھیج رہے ہوں گے تو آپس کی رنجشیں اور شکوے اور دوریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی اور ہو جانی چاہئیں۔بھائی بھائی جو آپس میں لڑے ہوئے ہیں۔ناراضگیاں ہیں۔ان میں صلح قائم ہو جائے گی۔ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں اور قرآن کریم پر ہمارا پورا ایمان ہے اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو پھر قرآن تو کہتا ہے کہ سلامتی بھیجو۔ایک دوسرے پر سلامتی بھیجو۔اور یہاں بعض جگہ پر ناراضگیوں کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔پس غور کرنا چاہئے اور اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو قرآن کریم کی اعلیٰ تعلیم اور احکامات ہیں ان کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔پس ہر احمدی کو قرآن کریم کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ ایسی عظیم کتاب ہے کہ کوئی پہلو ایسا نہیں جس کا اس نے احاطہ نہ کیا ہو۔پس معاشرے کے امن کے لئے بھی ، اپنی روحانی ترقی کے لئے بھی، خدا کا قرب