تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 47

47 مکمل کرنے کی کوشش کرے۔اگر دومرتبہ تلاوت نہیں کر سکتے تو کم از کم ایک مرتبہ تو خود پڑھ کر کریں۔پھر درسوں کا انتظام ہے ، تراویح کا انتظام ہے، اس میں ( قرآن ) سنیں۔بعض کام پہ جانے والے ہیں کیسٹ اور CDS ملتی ہیں ان کو اپنی کاروں میں لگا سکتے ہیں،سفر کے دوران سنتے رہیں۔اس طرح جتنا زیادہ سے زیادہ قرآن کریم پڑھا اور سنا جا سکے، اس مہینے میں پڑھنا چاہئے اور سننا چاہئے۔قرآن کریم کی تلاوت کے دوران احکامات کی تلاش کریں اور پھر صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ اس کے اندر بیان کردہ احکامات کی تلاش کرنی چاہئے۔پھر سارا سال ان تلاش شدہ احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ان حکموں کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تبھی رمضان کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے اور روزوں اور عبادتوں کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔کیونکہ اگر یہ نہیں پتہ کہ جو کام کر رہا ہوں اس کا مقصد کیا ہے اور کیوں خدا تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں تو ان اعمال کے حق ادا نہیں ہو سکتے۔بلکہ اعمال کا بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ کیا کرنا ہے۔اگر صرف یہی سنتے رہیں کہ تقویٰ پر چلو اور اعمال صالحہ بجالا ؤ اور یہ پتہ نہ ہو کہ تقویٰ کیا ہے اور اعمال صالحہ کیا ہیں تو یہ تو دیکھا دیکھی ایک نظام چل رہا ہے رمضان کے دنوں میں یا عام تقریریں سن لیں، آگے چلے گئے ، خطبات سن لئے ، چلے گئے۔ایک کام تو ہورہا ہو گا لیکن اس کی روح کا پتہ نہیں چلے گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَتْلُوْنَهُ حَقَّ تِلَاوَتِه (البقرة : 122 ) یعنی وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے۔یعنی غور بھی باقاعدگی سے ہو۔اور غور بھی اچھی طرح ہو تلاوت میں بھی باقاعدگی رہے اور پھر جو پڑھا یا سنا اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو۔