تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 39

39 صحیح تلفظ سے قرآن پڑھنے اور ترجمہ یکھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے ایک وقت تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ صحیح طور پر قرآن کریم نہیں پڑھا جاتا جماعت کو صحت تلفظ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس طرح پڑھا جائے کیوں کہ زیر زبر پیش کی بعض غلطیاں ہو جاتی تھیں کہ ان غلطیوں کی وجہ سے معنے بدل جاتے ہیں یا مفہوم واضح نہیں ہوتا، تو اس طرح آپ نے صحت تلفظ کی طرف توجہ دلائی تھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد جماعت میں اس طرف خاص توجہ پیدا ہوئی۔لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ ترجمہ قرآن کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ذیلی تنظیمیں بھی کام کریں۔جماعتی نظام بھی کام کرے۔یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے انصار اللہ یو۔کے نے شروع کیا ہے۔یہ انٹرنیٹ کے ذریعہ سے بھی پڑھا رہے ہیں اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔کیونکہ ترجمہ آئے گا تو پھر ہی صحیح اندازہ ہو سکے گا کہ احکامات کیا ہیں؟ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ غور کرو تبھی غور کی عادت پڑے گی۔عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور یہی تلاوت کا حق ہے۔ایک صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جائے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا: قرآن شریف تدبر و تفکر وغور سے پڑھنا چاہئے۔حدیث شریف میں آیا ہے۔رُبَّ قَارٍ يَلْعَنهُ الْقُرْآن یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں“ پڑھنے والے ہیں کہ جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا