تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 31
31 اس وقت آپ کے جذ بات اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز تھے، اس کے شکر سے لبریز تھے۔آپ کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز تھا۔روایات میں آتا ہے جس اونٹ پر آپ بیٹھے ہوئے تھے اس کی سیٹ کے اگلے حصہ پر سر ٹک گیا تھا۔کیوں کہ آپ کو اس فتح کے ساتھ آئندہ آنے والی فتوحات کے نشانات بھی نظر آ رہے تھے۔اس سے اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے جذبات اور زیادہ بڑھ گئے تھے۔“ قرآن کریم کا علم رکھنے والوں کی بے انتہا قدر ہے حضور انور نے فرمایا: پھر قرآن کریم کا علم جاننے والوں ، حفظ کرنے والوں کی بھی آپ بے انتہا قدر کیا کرتے تھے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا کلام اپنے دل ودماغ میں بسایا ہوا ہے۔اس زمانہ میں جب جنگیں ہوا کرتی تھیں۔جنگ احد میں بہت زیادہ شہادتیں ہوئی تھیں۔اس میں قرآن جاننے والے اس کا علم حاصل کرنے والے بہت سارے حفا ظ بھی شہید ہوئے تھے۔تو جب سب کی تدفین کا معاملہ پیش ہوا تو اس وقت آپ نے تدفین کے لئے ایک اصول وضع فرمایا جس کا روایات میں یوں ذکر آتا ہے کہ جنگ احد کے دن زخمی صحابہ نے شہداء کے لئے قبریں کھودنے کی بابت اپنی مجبوری عرض کی بہت سارے زخمی بھی ہو گئے تھے اور جو شہید ہوئے تھے وہ کافی تعداد میں تھے۔علیحدہ علیحدہ ان کے لئے قبر کھودنا بڑا مشکل تھا۔طاقت اور ہمت نہیں تھی۔تو آپ نے فرمایا کہ کشادہ قبریں کھودو اور انہیں عمدگی سے تیار کرو اور ایک قبر میں دو دو اور تین تین کو دفن کرو اور فرمایا ان شہداء میں سے مقدم اس شہید کو رکھو جو قرآن زیادہ جاننے والا تھا۔( ترمذی، کتاب الجہاد باب ما جاء فى دفن الشہداء)