تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 17

17 چاہا گیا ہے۔اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے۔اور ان بداعمالیوں سے بچے جن کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔بلا مدد وحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے، اور ایسی راے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہوگی۔رسم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے۔اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے بھی شامل حال ہو۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے پھر آگے چل کر ایک اور قسم کا پھول چنتا ہے۔پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اٹھا وے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے۔ور نہ پھر سوال ہو گا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی۔خدا تعالیٰ کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے فلاں راہ سے اگر سورۃ یاسین پڑھو گے تو برکت ہوگی ورنہ نہیں“۔( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۹۱۵ جدید ایڈیشن) یہ باتیں ہوتی ہیں کہ اس طرح سورۃ یاسین پڑھی جائے تو برکت ہوگی اور اگر اس طرح ہوگی تو نہیں ہوگی۔پس ہر ایک کو اس نصیحت پر عمل کرنا چاہئے ، دلوں کو پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس طرح غور اور تدبر سے پڑھنا چاہئے جیسا کہ آپ نے فرمایا۔پھر ہر ایک جائزہ لے کہ کتنے حکم ہیں جن پر میں عمل کرتا ہوں۔تو اگر روزانہ تلاوت کی عادت ہو اور پھر اس طرح روزانہ جائزہ ہو تو کیا دل کے اندر کوئی برائی رہ سکتی ہے۔کبھی نہیں۔تو یہ بھی ایک پاک کرنے کا ذریعہ ہوگا۔