تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 97
97 { وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلا) (المزمل:۴) کہ قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کرو۔اب جس نے 18-20 منٹ میں یا آدھے گھنٹے میں نماز پڑھانی ہے اور قرآن کریم کا ایک پارہ بھی ختم کرنا ہے، اس نے کیا سمجھنا اور کیا نکھارنا ہے۔حضور انور کا تلاوت کا طریق ایک دفعہ میں وقف عارضی پر کسی کے ساتھ گیا ہوا تھا۔تو ایک دن صبح کی نماز کے بعد ہم تلاوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے کہنے لگے کہ میاں تم سے مجھے ایسی امید نہیں تھی۔میں سمجھا پتہ نہیں مجھ سے کیا غلطی ہوگئی۔میں نے پوچھا ہوا کیا ہے۔کہنے لگے میں دو تین دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم تلاوت کرتے ہو تو بڑی ٹھہر ٹھہر کے تلاوت کرتے ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اسکتے ہو تمہیں ٹھیک طرح قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا۔تو میں نے انکو کہا کہ اٹکتا نہیں ہوں بلکہ مجھے اسی طرح عادت پڑی ہوئی ہے۔ہر ایک کا اپنا اپنا طریق ہوتا ہے۔اس حدیث کا حوالہ تو نہیں پتہ تھا۔قرآن کی یہ آیت میرے ذہن میں نہیں آئی لیکن میں نے کہا کہ تیز پڑھنا بھی آتا ہے بے شک تیز پڑھنے کا مقابلہ کر لیں لیکن بہر حال جس میں مجھے مزا آتا ہے اسی طرح میں پڑھتا ہوں ، تلاوت کرتا ہوں۔تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی علمیت دکھانے کے لئے بھی سمجھتے ہیں کہ تیز پڑھنا بڑا ضروری ہے حالانکہ اللہ اور اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ سمجھ کے پڑھو تا کہ تمہیں سمجھ بھی آئے اور یہی مستحسن ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہر ایک کی اپنی اپنی استعداد ہے۔ہر ایک کی اپنی سمجھنے کی رفتار اور اخذ کرنے کی قوت بھی ہے تو اس کے مطابق بہر حال ہونا چاہئے اور سمجھ کر قرآن کریم کی تلاوت ہونی چاہئے۔قرآن کریم کا ادب بھی یہی ہے کہ اس کو سمجھ کو پڑھا جائے۔اگر اچھی طرح ترجمہ آتا بھی ہو تب بھی سمجھ کر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کا حق ادا کرتے ہوئے پڑھنا چاہئے تاکہ ذہن اس حسین تعلیم سے مزید روشن ہو۔پھر جب انسان سمجھ