تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 58

58 گئے، جیسا کہ پہلے بھی ایک دفعہ میں بتا چکا ہوں کہ دوسرے مسلمان جو تراویح میں پڑھتے ہیں تو اتنی تیزی سے پڑھتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آ رہی ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا بھی عبادت ہے۔( الحكم 24 مارچ 1903 ء ) ایک حدیث میں آتا ہے، سعید بن ابی سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا جو شخص قرآن کریم کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(سنن ابو داؤد کتاب الصلوة باب استجاب الترتيل في القراءة ) قرآن کریم کا پڑھنا نصیحت حاصل کرنا ہے پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور حکم ہے کہ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِه (البقرة : 232) اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہے اور جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت میں اتارا ہے۔وہ اس کے ساتھ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے جو احکامات قرآن کریم میں ہیں یہ سب نعمت ہیں جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں۔سورۃ نور کے شروع میں بتا دیا کہ یہ نعمت جو تمہیں دی گئی ہے اس میں احکامات ہیں اس میں غور کرو۔جب تک پڑھو گے نہیں ان نعمتوں کا علم حاصل نہیں کر سکتے ان کا فہم ہی نہیں ہو سکتا۔پس قرآن کریم پڑھنا نصیحت حاصل کرنا ہے اور ایک مومن کے لئے یہ انتہائی ضروری چیز ہے۔کیونکہ یہی چیز ہے جو انسان کو تقویٰ میں بڑھاتی ہے۔