تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 49
49 ہم نے اس کی تلاوت کرنی ہے اور اپنے پر اس کی تلاوت کو فرض کرنا ہے۔اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنی ہے۔کیونکہ یہی چیز ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوگی اور یہی چیز ہمارے لئے رمضان کی مقبولیت کا باعث بنے گی۔اور یہی بات ہے جس کی طرف خاص طور پر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے۔قرآنی احکامات پر عمل روحانی زندگی کا باعث ہے آپ فرماتے ہیں: اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے“۔یعنی اس حقیقی تعلیم پر عمل کو بھول نہ جانا۔صرف پڑھنا ہی نہ رہے۔صرف تلاوت کرنا ہی نہ رہے۔بلکہ اس پر عمل بھی ہونا چاہئے۔ورنہ مردہ کی طرح ہو جاؤ گے۔روحانی زندگی جو ہے وہ نہیں رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیعت کا عہد جو ہے وہ فضول ٹھہرے گا۔فرمایا کہ پس اس کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دینا۔پھر فرمایا کہ ”جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 13 ) آسمان پر عزت پانا اور مقدم رکھا جانا کیا ہے؟ یہی کہ پھر خدا تعالیٰ اپنا فضل فرماتے ہوئے اپنا قرب عطا فرمائے گا۔قبولیت دعا کے نشان ملیں گے۔معاشرے کی برائیوں سے اس دنیا میں بھی انسان بچتا رہے گا۔پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرما دیا ہے کہ پہلی کوشش