تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 86
86 ہے۔اس شخص کی حالت بہت ہی عبرت بخش اور نصیحت خیز ہے۔مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ساری ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہئے۔مگر نہیں، اس کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی۔ایک شخص ( یعنی اپنے آپ کے بارے میں کہہ رہے ہیں ، ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھر نری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم حالت اس قوم کی ہوگی، ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۴۰ جدید ایڈیشن ربوه) آج بھی یہی حقیقت ہے کہ قرآن کریم پر غور کرنا تو ایک طرف اکثریت قرآن کریم پڑھنے کی طرف بھی توجہ نہیں دیتی۔اور نام نہاد علماء کے اس بات پر ورغلانے سے النبيين ان کے پیچھے چل پڑے ہیں کہ قرآن کریم کہتا کہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم اللہ ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔کاش کہ یہ غور کریں اور ہم سے پوچھیں کہ کیا دعویٰ ہے؟ حق کو پہچاننے کی جستجو کریں۔ان کے پاس دلیل نہیں ہے اس لئے علماء نے جماعت پر پاکستان میں خاص طور پر اور باقی مسلم ملکوں میں بھی ہر جگہ پابندی لگائی ہے۔مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی بات سننا بھی کفر ہے۔بلکہ یہاں تک کہتے ہیں ان سے سلام کرنا بھی کفر ہے۔وہی شدت پسندی اگر عیسائی دکھا رہے ہیں تو یہاں احمدیوں کے بارہ میں مسلمان بھی دکھا رہے ہیں۔بلکہ عمومی طور پر ایک بہت بڑا گروہ، ایک طبقہ ایسا جو شدت پسندی کا اظہار کر رہا ہے تو عیسائیوں کو بھی جرات پیدا ہوئی ہے۔پس یہ تو ان لوگوں کی حالت ہے۔مسلمانوں کو اپنے آپ پر اتنا بھی یقین نہیں ہے کہ اگر احمدی غلط ہیں تو ان کی بات کو رڈ کر دیں۔کیا یہ اتنے خوفزدہ ہیں، اپنے ایمانوں کو اتنا