تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 43

43 ہے۔ان احکامات کی بڑی لمبی تفصیل ہے۔اگر مومن ان احکامات کو سامنے رکھے اور ان کی حکمت پر غور کرے تو جہاں ہر ایک کی اپنی عقل اور دانائی میں اضافہ ہوتا ہے وہاں معاشرے میں بھی علم و حکمت پھیلنے سے محبت اور پیار کو رواج ملتا ہے۔زیادہ دماغ روشن ہوتے ہیں۔پس ایک مومن کی یہی کوشش ہونے چاہئے کہ قرآن کریم سے یہ حکمت کے موتی تلاش کرے اور اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم ہے جیسے کہ فرماتا ہے وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُؤْتِكُنَّ مِنْ أَيْتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا (الاحزاب : 35 ) اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت باریک بین اور باخبر ہے۔ان باتوں کو قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان کو یاد کرنے کا حکم ہے۔یہ آیات اور حکمت کی باتیں قرآن کریم میں جتنی بھی ہیں جن کی ہم اپنے گھروں میں تلاوت کرتے ہیں۔قرآن کریم کا ڑھے جاتے ہیں بڑے اہتمام سے رکھے بھی جاتے ہیں روز تلاوت کی جائے تو تلاوت کا ثواب ملتا ہے لیکن اس کتاب کا حقیقی مقصود تب پورا ہوتا ہے۔ان آیات کی تلاوت کرنے کا فائدہ تب ہو گا جب ان احکامات پر عمل بھی ہوگا اور اسی طرح اسوہ رسول صلی یہ تم بھی ہمارے سامنے ہوگا اور یہ آیات اور حکمت کے موتی اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ہم کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ باریک بین اور باخبر ہے۔یہ جو آخر میں فرمایا اور یہ کہ کر ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ جو ہمارے ظاہر و باطن سے باخبر ہے اسے کبھی دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی بھی خبر رکھتا ہے اور ہر برائی کی بھی۔پس اس عظیم رسول کی اس تعلیم کو جب تک اپنے پر لاگو کر کے ہم اپنی زندگیاں اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کریں گے حقیقی مومن کہلانے والے نہیں بن سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر حکمت تعلیم کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین " ( خطبه جمعه فرموده 18 جنوری 2008ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 8 فروری2008ءجلد 15 شمارہ 6 صفحہ 8)