تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 38
38 زمانہ اس مہدی کی جماعت میں شامل ہو کر قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔پس یہ ذمہ داری ہے ہر احمدی کی کہ وہ اپنے جائزے لے کہ کس حد تک ان احکامات پر عمل کرنے کو کوشش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیئے ہیں۔قرآن کریم کی تلاوت کی اصل غرض یہ ہے کہ تا حقائق و معارف پر اطلاع ملے حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں کہ : لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خود سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتہ لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لئے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سر لگا کر پڑھ لیا اور ”ق“ اور ”ع“ کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا بھی ایک اچھی بات ہے۔مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔یہ یاد رکھو کہ قرآن شریف میں ایک عجیب و غریب اور سچا فلسفہ ہے۔اس میں ایک نظام ہے جس کی قدر نہیں کی جاتی۔جب تک نظام اور ترتیب قرآنی کو مدنظر نہ رکھا جاوے۔اس پر پورا غور نہ کیا جاوے، قرآن شریف کی تلاوت کے اغراض پورے نہ ہوں گے“۔الحکم جلد 5 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1901 صفحہ 3) پس یہ ہے تلاوت کا حق جس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے وضاحت فرمائی ہے۔