تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 37

37 تلاوت کا حق کیا ہے؟ تلاوت کا حق کیا ہے؟ تلاوت کا حق یہ ہے کہ جب قرآن کریم پڑھیں تو جو اوامر ونواہی ہیں ان پر غور کریں۔جن کے کرنے کا حکم ہے ان کو کیا جائے۔جن سے رکنے کا حکم ہے ان سے رُکا جائے۔آنحضرت صلی ا یتیم کے سامنے یہود ونصاریٰ کا یہی دعویٰ تھا کہ ہمارے پاس بھی کتاب ہے۔چاہتے تھے کہ مسلمان ان کی بات مان لیں تو اللہ تعالیٰ نے ایک تو ان یہود کا یہ رد کر دیا کہ تمہاری کتاب اب اس قابل نہیں رہی کہ اسے اب سچی کہا جا سکے کیونکہ تمہارے عمل اس کے خلاف ہیں۔بعض باتوں کو چھپاتے ہو بعض کو ظاہر کرتے ہو۔پس تمہاری کتاب اب ہدایت نہیں دے سکتی۔بلکہ آنحضرت صلی اینم کی بعثت کے بعد ، شریعت کے اترنے کے بعد یہ قرآن کریم ہی ہے جو ہدایت کا راستہ دکھانے والی ہے جس نے اب دنیا میں ہدایت قائم کرنی ہے۔پس صحابہ رضوان اللہ علیہم نے یہ ثابت کیا ان کی زندگیاں اس بات کی ثبوت ہیں کہ وہ مومن ہیں جنہوں نے اس کتاب کی تلاوت کا حق ادا کیا اور یہی ایمان لانے والے کہلائے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط کیا ہے۔پس حقیقی مومن وہ ہیں جو تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور حقیقی مومن وہ ہیں جو اعمال صالحہ بجالاتے ہیں۔لھذا تلاوت کا حق وہی ادا کرنے والے ہیں جو نیک اعمال کرنے والے ہیں۔پس اس زمانے میں یہ مسلمانوں کے لئے انذار بھی ہے کہ اگر تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو اور وہ عمل نہیں جن کا کتاب میں حکم ہے تو ایمان کامل نہیں۔اس زمانے کے حالات کے بارے میں (جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے حالات تھے ) آنحضرت صلی لا یہی تم نے انذار فرمایا ہے جو ظاہر وباہر ہے، ہر ایک کو پتہ ہے۔احادیث میں ذکر ہے اور ایسے حالات میں ہی مسیح موعود کا ظہور ہونا تھا جب یہ حالات پیدا ہونے تھے۔پس حق تلاوت ادا کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو فی