تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 27
27 اللہ تعالیٰ کی بڑھائی بیان کرتے ہوئے آپ کا جوش غیر معمولی ہو جایا کرتا تھا۔کیونکہ آپ کی ذات ہی تھی جسے اللہ تعالیٰ کی جبروت اور قدرتوں کا صحیح ادراک تھا۔صحیح علم تھا۔صحیح گہرائی تک آپ پہنچ سکتے تھے۔اور آپ ہی کی ذات تھی جس کے سامنے خدا تعالیٰ کی ذات سب سے بڑھ کر ظاہر ہوئی۔تو آپ کو پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا کیا قدرتیں ہیں اور طاقتیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا اگر رحم نہ ہو تو یہ لوگ جو اس کی باتوں سے دور ہٹتے جارہے ہیں، اسکے حکموں پر عمل نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی طاقتوں کے مالک ہیں، اس پہ بڑا فخر ہے، اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ رہے ہوتے ہیں تو ان کو وہ اس طرح تباہ و برباد کر دے جس طرح ایک کیڑے کی بھی شاید کوئی حیثیت ہو، ان کی وہ بھی حیثیت نہیں ہے۔قرآن کریم جب نازل ہوا تو سب سے زیادہ آپ اس کو آسانی اور روانی سے پڑھ سکتے تھے اور اسی روانی میں اس کے مطالب کو بھی خوب سمجھ سکتے تھے۔لیکن اس کے باوجود آپ کا قرآن کریم پڑھنے کا طریق کیا تھا اس بارے میں حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الوتر - باب استجاب الترتيل في القراءة ) حسن قراءت سے قرآن کریم پڑھنا چاہئے آپ کا قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں کیا طریق ہوتا تھا اس بارے میں اور بہت ساری روایات ہیں، جن کے بارے میں بیان کرنے والوں نے اپنے اپنے رنگ میں بیان کیا ہے۔ان سے آپ کے حسن قراءت کی اور بھی زیادہ وضاحت ہوتی ہے۔ایک روایت یعلی بن ملک کی ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن کریم کی تلاوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں