تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 23
23 مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے۔اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔آپ خاتم النبین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت، کیا باعتبار ترتیب مضامین، کیا باعتبار تعلیم،کیا باعتبار کمالات تعلیم ،کیا باعتبار ثمرات تعلیم ،غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی تعلیم ، خواہ بلحاظ ، پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 26-27 جدید ایڈیشن۔الحکم 24 را پریل 1903ء صفحہ 1'2) قرآن کریم ایک مکمل معجزہ ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم ایک مکمل معجزہ ہے۔اور یہی نہیں کہ اس میں مکمل تعلیم آگئی اور یہ معجزہ ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معجزے کے ہر حکم کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا اور اس پر عمل کر کے دکھایا تا کہ اپنے ماننے والوں کو بھی بتا سکیں کہ میں بھی ایک بشر ہوں ، جہاں تک بشری تقاضوں کا سوال ہے۔لیکن ایسا بشر ہوں جس کو خدا تعالیٰ نے اپنا پیارا بنایا ہے۔اور اپنی طرف جھکنے کی وجہ سے پیارا بنایا ہے۔تم بھی اس تعلیم پر عمل کرو، میری سنت کی پیروی کرو اور اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے بنو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے حکموں پر کس حد تک عمل کرتے تھے۔اس