تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 22

22 ہے۔بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو۔اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے اسی قدر قوت وشوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کو ہر کوئی جانتا ہے کہ کس طرح آپ نے صحابہ میں پاک تبدیلیاں پیدا کیں۔جو پاک تبدیلیاں صحابہ میں ہوئیں کہ راتوں کو جاگ کر محفلیں لگانے والے اب بھی راتوں کو جاگتے تھے لیکن راگ رنگ کی محفلیں نہیں جمتی تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدوں میں راتیں گزرتی تھیں۔پھر جو شراب کو پانی کی طرح پینے والے تھے انہوں نے جب خبر سنی تو نشے کی حالت میں بھی یہ نہیں کہا کہ پہلے پتہ کرو کیا ہورہا ہے کیا نہیں ہو رہا ہے۔بلکہ پہلے شراب کے مٹکے توڑے گئے۔تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی ہی تھی جس نے یہ انقلاب برپا کیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس قدر کسی شخص کی قوت قدسی ہوتی ہے اسی قدر اس کا قوت وشوکت کا کلام ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا۔کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی۔اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے اور اس