تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 21
21 نہ صرف پاک ہے بلکہ ہر قسم کی حسین اور خوبصورت تعلیم اس میں پائی جاتی ہیں جس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔اور اس میں وہ تمام خوبیاں شامل کر دی گئی ہیں جن کی پہلے صحیفوں میں کمی تھی اور اب یہی ایک تعلیم ہے جو ہر ایک قسم کی کمی سے پاک ہے۔بلکہ اس تعلیم پر عمل کر کے ہر برائی سے بچا جاسکتا ہے۔اور نہ صرف بچا جاسکتا ہے بلکہ اس کی تعلیم پر عمل کرنے اور اس تعلیم کو لاگو کرنے سے بھی اپنی اور دنیا کی اصلاح ممکن ہے یعنی یہ تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری یہ اب دنیا کی اصلاح کی ، دنیا میں نیکیاں رائج کرنے کی ، دنیا میں امن قائم کرنے کی ، دنیا میں عبادت گزار پیدا کرنے کی ، دنیا میں ہر طبقے کے حقوق قائم کرنے کی ضمانت ہے۔تو جس نبی پر یعنی حضرت محمد رسول اللہ علیہ وسلم پر یہ کامل اور مکمل تعلیم اتری اور جو خاتم النبین کہلائے جن کے بعد کوئی نئی شریعت آہی نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس تعلیم پر کس قدر عمل کرنے والے ہوں گے۔اس کا تصور بھی انسانی سوچ سے باہر ہے۔کیوں کہ آپ ہی ہیں جنہوں نے اس پاک کلام کو سمجھا۔آپ ہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے اس کلام کا مکمل فہم اور ادراک حاصل ہوا۔یہ آپ ہی کی ذات ہے جس کو اپنے پر اترنے والی اس آخری کتاب، اس آخری شریعت ، کلام کے مطالب اور معانی کے مختلف زاویوں اور اس کے مختلف بطون کے سمجھنے کا کامل علم حاصل ہوا۔گو یا خاتم النبین کی ذات ہی تھی جس نے اس خاتم الکتب کو سمجھا اور نہ صرف اس کی گہرائی میں جا کر عمل کیا بلکہ صحابہ کو بھی وہ شعور عطا فرمایا جس سے وہ اس کو سمجھ کر پڑھتے تھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اس آخری کتاب کو پڑھنے کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی اور شریعت یا کتاب سے رہنمائی کی جائے۔کیوں کہ پہلوں کی باتیں بھی اس میں آچکی ہیں اور آئندہ کی باتیں اور خبریں بھی اس میں آچکی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا