تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 103

103 سیکھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو یہ دین کی تعلیم جو ہے تقسیم کرنے کے لئے آیا ہوں اور عطا کرنے والی ذات جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہے، اس لئے جب بھی آپ لوگ دین سیکھ رہے ہوں پڑھ رہے ہوں۔قرآن شریف پڑھ رہے ہوں کسی سے بھی خود پڑھ رہے ہیں یا نیا نیا پڑھنا شروع کیا ہے یا قرآن شریف کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا ہے، اس کی Translation سیکھ رہے ہیں یا حدیث پڑھ رہے ہیں یا کوئی اور دینی کتاب پڑھ رہے ہیں تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا فضل مانگیں اس سے دعا بھی کیا کریں کہ اللہ میاں آپ کو جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں اس کو سیکھنے کی اور سمجھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔کیوں کہ دین سکھانے والی ذات جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔خود یہ نہ سمجھیں کہ کتابیں پڑھ کے صرف آپ کو خود ہی علم آ جائے گا۔“ مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم صفحہ 362 تربیتی کلاس 31 دسمبر 2003ء ایڈیشن 2007 ، انڈیا) محنت کی عادت ڈالیں پھر محنت ہے، محنت کی عادت ڈالیں کیوں کہ آپ نے بڑے ہونا ہے جماعت کی ساری ذمہ داریاں آپ پر پڑنے والی ہیں۔اس لئے آپ کو چاہئے کہ محنت کریں تعلیم کے معاملے میں دینی تعلیم میں بھی دنیاوی تعلیم میں بھی محنت کریں اور سیکھیں اور جب آپ کو محنت کی عادت پڑ جائے گی اور علم بھی اس وجہ سے حاصل ہو جائے گا۔پھر آئندہ بڑے ہو کے آپ جماعت کے بھی اچھے کام کر سکتے ہیں۔دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے تو ہر ایک کی اپنی اپنی دلچسپی ہوتی ہے۔کوئی ڈاکٹر بننا چاہے گا، کوئی انجینئر بننا چاہے گا، کوئی وکیل بنا چاہے گا، کوئی ریسرچ میں جائے گا تو وہ بے شک تعلیم حاصل کریں لیکن ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی اسی محنت سے آپ کو حاصل کرنی چاہئے۔