تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 48

48 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا بلکہ خود قرآن کریم میں آتا ہے کہ اُسے مہجور کی طرح نہ چھوڑ دینا۔پس تعلیم یہ ہے کہ غور بھی ہو، عمل بھی ہو، تلاوت بھی ہو۔نہ کہ مہجور کی طرح چھوڑ دیا گیا ہو۔تلاوت کا حق ادا کئے بغیر ھدایات کی تفصیل کا علم ممکن نہیں اور یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ یہ فرمانے کے بعد کہ شہر رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔پھر فرماتا ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَان یعنی انسانوں کی ہدایت کے لئے اتارا گیا ہے اس میں ہدایت کی تفصیل بھی ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے والے امور بھی بیان کئے گئے ہیں۔پس جب تک اس کی تلاوت کا حق ادا نہ ہو، نہ ہدایت کی تفصیل پستہ لگ سکتی ہے ، نہ ہی جھوٹ اور سچ کا فرق واضح ہوسکتا ہے۔پس ہر مومن کا فرض ہے کہ اگر روزوں کا حقیقی حق ادا کرنا ہے تو قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے احکامات کی تلاش بھی ضروری ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کے بارہ میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح حکم فرمایا ہے وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَاَنْ اَتْلُو الْقُرْآنَ (النمل: 92-93) یعنی اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہو جاؤں اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔پس حقیقی فرمانبرداری یہی ہے کہ جو کامل شریعت خدا تعالیٰ نے آنحضرت پر اتاری ہے اور جس کو ماننے کا ہمارا دعویٰ ہے اور پھر اس زمانے میں مسیح الزمان و مہدی دوران کو ماننے کا ہم اعلان کرتے ہیں تو پھر اس کامل کتاب کی یعنی قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں اور اس رمضان میں جہاں اس کو باقاعدگی سے پڑھنے کا عہد کریں اور پڑھیں وہاں اس بات کا بھی عہد کریں کہ ہم نے رمضان کے بعد بھی روزانہ