تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 4
4 قرآن کریم کو احکامات پر عمل کرنے کے لحاظ سے بہت آسان بنایا ہے جہاں تک انسان خود بھی نہیں پہنچ سکتا۔اس کو پتہ ہے کہ کس شخص کی کتنی استعدادیں ہیں۔اور اس کی فطرت میں کیا کیا خوبیاں یا برائیاں ہیں۔اس نے فرمایا کہ تم نصیحت پکڑنے والے بنو تم اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرنے والے بنو۔صرف نام کے مسلمان ہی نہ ہو۔صرف یہ دعوی کر کے کہ ہم نے امام مہدی کو مان لیا اور بس قصہ ختم ، اس کے بعد دنیاوی دھندوں میں پڑ جاؤ۔اگر اس طرح کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بھلانے والے ہو گے۔اور اگر نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کو پانے کی تلاش میں ہو گے، اس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہو گے تو فرمایا کہ میں نے قرآن کریم میں انسانی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے آسان انداز میں نصیحت کی ہے۔بڑے آسان حکم دیئے ہیں جن پر ہر ایک عمل کر سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اس میں تمام بنیادی اخلاق اور اصول و قواعد کا ذکر بھی آ گیا جن پر عمل کرنا کسی کم سے کم استعداد والے کے لئے بھی مشکل نہیں ہے۔عبادتوں کے متعلق بھی احکام ہیں تو وہ ہر ایک کی اپنی استعداد کے مطابق عورتوں کے متعلق حکم ہیں تو وہ ان کی طاقت کے مطابق ہیں۔گھر یلو تعلقات چلانے کے لئے حکم ہے تو وہ عین انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔معاشرے میں تعلقات اور لین دین کے بارے میں حکم ہے تو وہ ایسا کہ ایک عام آدمی جس کو نیکی کا خیال ہے وہ بغیر اپنا یا دوسرے کا نقصان کئے اس پر عمل کر سکتا ہے۔پھر جن باتوں کی سمجھ نہ آئے یا بعض ایسے حکم ہیں جو بعض لوگوں کی ذہنی استعدادوں سے زیادہ ہوں، اور بعض گہری عرفان کی باتیں ہیں ان کے سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زیادہ استعداد والوں کو علم دیا کہ انہوں نے ایسے مسائل آسان کر کے ہمارے سامنے رکھے دیئے۔اور ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اس زمانے میں ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق ملی جن کو ہے۔