آنحضرت ﷺ اور امنِ عالم

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 34

آنحضرت ﷺ اور امنِ عالم — Page 18

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی 2022 آنحضرت صلی الم اور امن عالم که سلامت ہے، دوسروں کو سلامت رکھتا ہے۔سب کو امن دینے والا ہے۔یہ کہہ کر کہ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السّلَمُ الْمُؤْمِنُ انسانى ارادوں کو پاک صاف کر دیا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ جب تک ارادے درست نہ ہوں اس وقت تک کام بھی درست نہیں ہو سکتا۔نیت ہی صاف نہ ہو تو کام میں برکت کس طرح پڑ سکتی ہے؟ تک ارادے درست نہ ہوں اس وقت تک بہر حال یہ یاد رکھنا چاہیے کبھی بھی کام درست نہیں ہو سکتا، ہو ہی نہیں سکتا۔دنیا میں اس وقت جتنی لڑائیاں اور فساد ہیں وہ سب اس وجہ سے ہیں کہ انسان کے ارادے صاف نہیں ہیں۔لوگ منہ سے جو باتیں کرتے ہیں ان کے مطابق ان کی خواہشات نہیں اور ان کی خواہشات کے مطابق ان کے قول و فعل نہیں اور دنیا کے اس فساد میں بڑی اور ترقی یافتہ کہلانے والی قوموں کا زیادہ کردار ہے۔آج بیشک دنیا لڑائی کو بُرا کہتی ہے۔ہر لیڈر کا یہی بیان ہے کہ لڑائی بُری چیز ہے لیکن اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے خلاف کوئی لڑے تو یہ بُری بات ہے لیکن اگر ان کی طرف سے جنگ کی ابتدا ہو تو یہ کوئی بری 18