خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 79
79 دے گا۔پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے تاکہ سارے ملک میں شور مچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہو جائیں“۔وسیع سکیم: (الفضل 10 جنوری 1928 ء خطبات محمود جلد 11 ص 272) اس اہم قومی وملی مقصد کی تکمیل کے لئے آپ نے ایک وسیع پر وگرام تجویز فرمایا جس کے اہم پہلو مندرجہ ذیل تھے۔اول: ہر سال آنحضرت ﷺ کی مقدس سوان میں سے بعض اہم پہلوؤں کو منتخب کر کے ان پر خاص طور سے روشنی ڈالی جائے۔1928ء کے پہلے سیرت النبی کے جلسے کے لئے آپ نے تین عنوانات تجویز فرمائے۔(1) رسول کریم ﷺ کی بنی نوع انسان کے لئے قربانیاں۔(2) رسول کریم اللہ کی پاکیزہ زندگی۔(3) رسول کریم ﷺ کے دنیا پر احسانات۔دوم: ان مضامین پر لیکچر دینے کے لئے آپ نے ایسے ایک ہزار فدائیوں کا مطالبہ کیا۔جو لیکچر دینے کے لئے آگے آئیں تا انہیں مضامین کی تیاری کے لئے ہدایات دی جاسکیں اور وہ لیکچروں کے لئے تیار کئے جاسکیں۔جلسوں کے اثرات سے قطع نظر صرف یہی بہت بڑا اور غیر معمولی کام تھا کہ حضور علیہ صل الله الصلوۃ والسلام کی سیرت پر روشنی ڈالنے والے ہزار لیکچرار تیار کر دیے جائیں۔سوم : سیرت النبی پر تقریر کرنے کے لئے آپ نے مسلمان ہونے کی شرط اڑادی اور فرمایا رسول کریم ﷺ کے احسانات سب دنیا پر ہیں اس لئے مسلمانوں کے علاوہ وہ لوگ جن کو ابھی تک یہ تو فیق تو نہیں ملی کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس تعلق کو محسوس کر سکیں۔جو آپ کو خدا تعالیٰ کے ساتھ تھا۔مگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی قربانیوں سے بنی نوع انسان پر بہت احسان کئے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں ان کی زبانی رسول کریم ﷺ کے احسانات کا ذکر زیادہ دلچسپ اور زیادہ پیارا معلوم ہوگا۔پس اگر غیر مسلموں میں سے بھی کوئی اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کریں گے تو انہیں شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور ان کی اس خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔( الفضل 10 جنوری 1928 ء۔خطبات محمود جلد 11 ص 273)