خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 75 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 75

75 جن میں مسلمانوں کو اقتصادی اور تمدنی آزادی سے متعلق آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہندو چھوت چھات کرتے ہیں۔اپنے قومی حقوق قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس دن ہر مقام پر ایک مشتر کہ انجمن بنائی جائے جو مشتر کہ فوائد کا کام اپنے ہاتھ میں لے۔اسی طرح تمام مسلمان حکومت سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف اور ان کی ہتک کا موجب ہے ( پنجاب میں ) پچپن فیصد آبادی والی قوم کے کل دو حج ہیں اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان حج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے جوں سے اسے اس طرح سینئر کیا جائے کہ موجودہ چیف جسٹس (سر شادی لال) کے بعد وہی چیف حج ہو۔حضور نے مزید فرمایا کہ 22 جولائی کے جلسوں میں مسلمانوں سے دستخط لے کر ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک نے ہر گز عدالت عالیہ کی بہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد جسٹس کنور دلیپ سنگھ کا فیصلہ مستردکر کے مسلمانوں کی دلجوئی کی جائے۔(انوار العلوم جلد 9 ص 589 انگریزی حکومت نے چاہا کہ آپ یہ مہم جاری نہ کریں۔لیکن حضور نے حکومت کو صاف صاف کہہ دیا کہ:۔66 مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ گورنمنٹ کی خاطر قوم کو قربان کر دوں اس وقت قوم کی حفاظت کا سوال (لیکچر شملہ۔انوارالعلوم جلد 10 ص29) حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی اس آواز سے جو آپ نے قادیان سے بلند کی تھی پورا ہندوستان گونج اٹھا اور جیسا کہ آپ نے تحریک پیش کی تھی ، 22 جولائی کو مسلمانان ہند نے ہر جگہ کامیاب جلسے کئے اور ایک متحدہ پلیٹ فارم سے نہ صرف مسلم آؤٹ لک کے مالک اور مدیر کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔بلکہ حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کی سکیم کے مطابق مسلمانوں نے مشترکہ انجمنیں قائم کر کے دکانیں کھلوائیں۔تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دی اور اپنے سیاسی حقوق کے لئے اپنی جدو جہد تیز تر کر دی اور