خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 57 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 57

57 تجویز فرمائیں کہ: جو لوگ اس میں شامل ہونا چاہیں ان کے لئے لازمی ہے کہ سات دن تک متواتر اور بلا ناغہ استخارہ کریں۔عشاء کی نماز میں یا نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کریں کہ اے خدا اگر میں اس کو نباہ سکوں گا تو مجھے اس میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔ایک اور شرط ہو گی کہ ایسا شخص خواہ امام الصلوۃ کے ساتھ اسے ذاتی طور پر کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مرکزی احکام کے بغیر اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک نہ کرے گا اور اپنے کسی بھائی سے خواہ اسے شدید تکلیف بھی کیوں نہ پہنچی ہو اس نے بات چیت کرنا ترک نہ کرے گا اور اگر وہ دعوت کرے تو اسے رد نہ کرے گا۔ایک اور شرط ہے کہ سلسلہ کی طرف سے اسے جو سزا دی جائے گی اسے بخوشی برداشت کرے گا اور ایک یہ کہ اس اس کام میں نفسانیت اور ذاتی نفع نقصان کے خیالات کو نظر انداز کر دے گا“۔اس دعوت پر وسط 1945 ء تک جو دوست شریک معاہدہ ہوئے ان کی تعداد 177 تھی۔تحریک سالکین حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے احمدیوں کی تربیت واصلاح کی غرض سے 27 دسمبر 1933ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک نہایت اہم تحریک تحریک سالکین“ کے نام سے جاری فرمائی۔یہ تحریک تین سال کے لئے تھی اس کے مقاصد حضور کے الفاظ میں یہ تھے۔تربیت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تربیت ابدال یا تبدیلی سے ہوتی ہے اور ایک تربیت سلوک سے ہوتی ہے۔صوفیاء نے ان دونوں طریق کو تسلیم کیا ہے۔تبدیلی یہ ہے کہ انسان کے اندر کسی اہم حادثہ سے فوراً ایک تبدیلی پیدا ہو جائے اور سلوک یہ ہے کہ مجاہدہ اور بحث سے آہستہ آہستہ تبدیلی پیدا ہو۔یورپ والے بھی ان کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ فوری تبدیلی کو کنورشن (conversion) کہتے ہیں صوفیاء کنورشن کو ہی ابدال کہتے ہیں۔ابدال کی مثال یہ ہے کہ لکھا ہے ایک شخص ہمیشہ برے کاموں میں مبتلا رہتا تھا۔اسے بہت سمجھایا گیا۔مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ایک دفعہ کوئی شخص گلی میں سے گزرتا یہ آیت پڑھ رہا تھا الم يان للذين امنوا ان تخشع قلوبهم لذكر الله (الحديد : 17)