خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 34 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 34

34 احباب اس کام میں مدد کریں۔چنانچہ احباب جماعت اپنے مقدس امام کا ارشاد پاتے ہی مٹی کھودنے اور ٹوکریاں اٹھانے میں مصروف ہو گئے۔خود حضرت خلیفہ اول نے بھی نہایت سرگرمی سے مٹی اٹھانا شروع کر دی۔یہ نظارہ نہایت ایمان افروز تھا کہ خدا کے مسیح کا مقدس خلیفہ مسجد اقصی کی تعمیر نو کے لئے اپنے ہاتھ سے ٹوکریاں اٹھا رہا تھا اور احمدیت کے عاشق ، اپنے بوڑھے مگر جواں ہمت آسمانی جرنیل کی قیادت میں پروانہ وار کام کر رہے تھے۔(بدر 17 مارچ 1910 ء ص 2 کالم ص 3) مسجد اقصیٰ کی توسیع کے ساتھ احمدی خواتین کو جمعہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہونے لگی۔چنانچہ 21 جنوری 1910ء کے جمعہ میں احمدی مستورات جن میں حضرت اماں جان بھی تھیں شامل ہوئیں انہوں نے مسجد اقصیٰ میں سب سے پچھلی صف میں نماز پڑھی اور خطبہ سنا۔اس طرح خلافت اولی میں ایک اہم سنت نبوی کا احیاء ہوا۔نور ہسپتال صدر انجمن احمدیہ نے ایک مختصر سی ڈسپنسری کھول رکھی تھی۔مگر زیر علاج مریضوں کے لئے کوئی مخصوص مکان نہ تھا اور مریض عموماً حضرت خلیفہ اول کے مکانوں میں یا کرایہ کے مکانوں یا مہمان خانہ یا بورڈنگ ہاؤس میں قیام کرتے تھے۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت میر ناصر نواب صاحب کے دل میں پر زور تحریک اٹھی کہ وہ ایک ایسا مکان تعمیر کرائیں جس میں ڈسپنسری کے ساتھ بیماروں کے لئے بھی وسیع ہال ہو۔چنانچہ 1909 ء کے شروع سے آپ نے جماعت میں اس کے لئے چندوں کی تحریک کرنا شروع کر دی، جس کا نام ناصر وارڈ رکھا گیا۔ناصر وارڈ کے کام پر حضرت خلیفہ اول نے نہایت درجہ خوشنودی کا اظہار فرمایا اور اس کے لئے خود بھی چندہ دیا اور دوسروں کو بھی تحریک فرمائی۔اس مقصد کے لئے 5 ہزار رو پید انداز و خرج تجویز ہوا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ایک مضمون میں تحریر فرمایا۔میر ناصر نواب کو جو آجکل انجمن ضعفاء کے سرگرم ممبر ہیں۔ایک جوش پیدا ہوا۔کہ ان بیماروں کے لئے ایک وسیع مکان بنانا ضروری ہے تاکہ ڈاکٹر اور طبیب ایک ہی جگہ ان کو دیکھ لیا کریں اور ان کی تیمارداری میں کافی سہولت ہو۔ان کی اس جوش بھری خواہش کو میں نے محسوس کر کے ایک سو روپیہ کا بدر 14 جنوری 1909ء)