خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 438 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 438

438 بننا تھا۔حضور نے فرمایا:۔دو نئے مراکز یورپ کے لئے بنانے کا پروگرام ہے ایک انگلستان میں اور ایک جرمنی میں۔انگلستان کو یورپ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اس لئے انگلستان میں بہر حال بہت بڑا مشن چاہئے۔اس لئے انگلستان میں بہت بڑا مرکز قائم کرنا ہے اور ایک جرمنی میں کیونکہ جرمنی کی جماعت بہت مخلص اور تبلیغ میں دن رات منہمک ہے۔ایسا اللہ نے ان کو اخلاص بخشا ہے کہ جب چندہ کی ضرورت پڑی تو جرمنی کا مشن بہت سے دوسرے مشنوں کے لئے کفیل بن گیا تھا اور حیرت انگیز قربانی کے مظاہرے انہوں نے کئے اس کے لئے اللہ تعالیٰ روپیہ اپنے فضل سے مہیا کرے گا۔میں نے پہل کی ہے دس ہزار پونڈ میں اس کام کے لئے پیش کر رہا ہوں۔اس کے علاوہ ایک ہمشیرہ ہیں ہماری سعیدہ بیگم نام ہے انہوں نے اس علم سے پہلے ہی کہ میں کیا سکیم پیش کرنے والا ہوں انہوں نے چھ ہزار کچھ سو پونڈ جو ایک لاکھ روپے کے برابر رقم بنتی ہے از خود مجھے بھجوادی ہے چیک کی شکل میں اور کہا کہ اس کو جماعت کی نئی ضروریات سامنے آرہی ہیں ضرور پیدا ہوں گی اس لئے میں ان کے لئے پیش کرتی ہوں۔پہلے تو حضور نے یہ سکیم صرف یورپین ممالک کے سامنے رکھی پھر 29 جون 1984 ء کو اس کو پوری دنیا کے لئے وسیع کر دیا۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دونوں مشن قائم ہو گئے۔ناصر باغ جرمنی اور اسلام آباد ٹلفور ڈسرے انگلینڈ میں۔اس کے بعد سارے یورپ میں نئے مراکز کے قیام کا سلسلہ جاری ہو گیا اور خلافت رابعہ میں یورپ کے درج ذیل ممالک میں پہلی بار مشن ہاؤسز اور مراکز خریدے گئے۔فرانس، پرتگال، آئر لینڈ ، حکیم ، پولینڈ، ترکی، البانیہ، بلغاریہ، کوسوو، بوسنیا۔خلافت رابعہ کے آخر تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے 18 یورپین ممالک میں مشن ہاؤسز اور مراکز کی مجموعی تعداد 148 ہوگئی جبکہ 1984ء میں یہ تعداد کل 8 ممالک میں صرف 16 تھی۔افریقہ میں 1984ء میں 14 ممالک میں مشنز اور مراکز کی تعداد 68 تھی جو اپریل 2003 ء تک 25 ممالک میں 656 ہوگئی۔