خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 324 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 324

324 چندہ تحریک خاص 1924ء میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے ساتھ ساتھ ایک مذاہب کانفرنس بھی منعقد ہوئی جس میں شمولیت کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں بھی دعوت نامہ روانہ کیا گیا۔حضور نے جماعت سے مشورہ لیا تو اس کا نوے فیصد حصہ اس حق میں تھا کہ حضور اس کا نفرنس میں ضرور شمولیت اختیار کریں۔چنانچہ حضور 12 جولائی 1924ء کو مع قافلہ لندن روانہ ہوئے اس سفر کے اخراجات کا وہ حصہ جو حضور کی ذات مبارک سے تعلق رکھتا تھا وہ تو حضور نے خود برداشت کیا۔لیکن عملہ کے اخراجات سفر و قیام خرچہ ڈاک لٹریچر کی اشاعت کے اخراجات وغیرہ کی ادائیگی احباب کے ذمہ تھی۔اس کے لئے رقم قرض لے کر مہیا کر دی گئی۔(الفضل 16 جولائی 1925ء) اس قرض کی واپسی کے لئے حضور نے 10 فروری 1925 ء کو ایک لاکھ روپیہ کی خاص چندہ کی تحریک فرمائی۔اس تحریک کا پس منظر حضور کے الفاظ میں یہ تھا۔” میری صحت متواتر بیماریوں سے جو تبلیغ ولایت کے متعلق تصانیف اور دوران سفر کے متواتر کام کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں بالکل ٹوٹ چکی ہے اور غموں اور صدموں نے میرے جسم کو زکریا علیہ السلام کی طرح کھوکھلا کر دیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر کبھی بھی میرا جسم راحت اور آرام کا مستحق اور میرا دل اطمینان کا محتاج تھا تو وہ یہ وقت ہے لیکن صحت کی کمزوری ، جانی اور مالی ابتلاؤں کے باوجود بجائے آرام ملنے کے میری جان اور بھی زیادہ بوجھوں کے نیچے دبی جارہی ہے۔کیونکہ سفر مغرب کی وجہ سے اور اشاعت کتب کی غرض سے جو روپیہ قرض لیا گیا تھا اس کی ادائیگی کا وقت سر پر ہے بلکہ شروع ہو چکا ہے اور بیت المال کا یہ حال ہے کہ قرضہ کی ادائیگی تو الگ رہی کارکنوں کی تنخواہیں ہی تین تین ماہ کی واجب الادا ہیں۔پس یہ غم مجھ پر مزید برآں پڑ گیا ہے کہ قرضہ ادا نہ ہونے کی صورت میں ہم پر نا دہندگی اور وعدہ خلافی کا الزام نہ آئے اور اسی طرح وہ لوگ جو باہر کی اچھی ملا زمتوں کو ترک کر کے قادیان میں خدمت دین کے لئے بیٹھے ہیں ان کو فاقہ کشی کی حالت میں دیکھنا اور ان کو ان کی ان تھک خدمات کے بعد قوت لایموت کے لئے بھی روپیہ نہ دے سکنا کوئی معمولی صدمہ نہیں ہے۔تیسر ا صدمہ مجھے یہ ہے کہ اس قدر تکالیف برداشت کر کے جو سفر اختیار کیا گیا تھا اس کے اثرات کو دیر پا اور وسیع