خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 319 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 319

319 تمہاری حاضری پھر بھی سو فیصدی نہیں ہوگی دس سال کے بعد بھی جو دن تم وقار عمل کا مقرر کرو گے وہی دن ایسا ہو گا جس دن ان کو کام ہو گا اور شیطان ان کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کر دے گا کہ آج تو مجھے فلاں کام بہت ضروری ہے۔اگر آج وہ کام نہ کیا تو مجھے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔نو سال گیارہ مہینے اور انتیس دن تک انہیں وہ کام یاد نہ آیا لیکن چونکہ تم نے تیسویں دن وقار عمل مقرر کر دیا اس لئے اسے بھی کام یاد آ گیا۔دس سال تو کیا اگر سو سال کے بعد بھی ان کو وقار عمل میں شامل ہونے کے لئے کہا جائے تو اس وقت بھی ان کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ موجود ہو گا۔ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ایسے لوگوں کا نہ آنا زیادہ بہتر ہوتا ہے بہ نسبت ان کے آنے کے۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ کتنے آتے ہیں اور کتنے نہیں آتے۔جو آتے ہیں انہیں اپنے ساتھ لے کر کام شروع کر دیں۔مشعل راه جلد اول ص (431) وقار عمل میں صفائی کے حوالے سے چندا ہم ہدایات دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: گلیاں کھلی رکھیں : جہاں تک گلیوں کی چوڑائی کا سوال ہے، میں نے کھلی گلیاں رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔گلیاں چوڑی ہونی چاہئیں۔میں نے سر دست اندازہ لگا کر پندرہ بیس فٹ کی وہ گلیاں رکھی ہیں جو مکانوں سے بڑی سڑکوں پر ملتی ہیں اور ان پر تانگہ گزارنا مد نظر نہیں اور جن پر تانگے وغیرہ گزار نے مقصود ہیں، وہ تمہیں فٹ کی رکھی ہیں اور بڑے راستے پچاس فٹ کے رکھے ہیں“۔( مشعل راه جلد اول ص 429) گلیوں میں گند نہ پھینکیں: یہ دیکھیں کہ لوگ گلیوں میں گند نہ پھینکیں اور اگر کوئی پھینکے تو سب مل کر اسے اٹھا ئیں۔تھوڑی سی محنت سے صفائی کی حالت اچھی ہو سکتی ہے۔گاؤں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی صفائی کی طرف خاص توجہ چاہئے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔مشعل راه جلد اول ص 140 ) گلی میں پھینکا گیا گند خدام اٹھائیں: میں نے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس کام کو خاص طور پر شروع کریں اور اب بھی جب تک