خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 176 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 176

176 سے عام طور پر دنیا نا واقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کلام مبالغہ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جارہی ہیں اور یہ انتہا درجہ کی ناشکری اور بے قدری ہوگی۔اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طرز تحریر کو اس کے مطابق نہ بنائیں“۔نیز فرمایا:۔پس میں اپنی جماعت کے مضمون نگاروں اور مصنفوں سے کہتا ہوں کسی کی فتح کی علامت یہ ہے کہ اس کا نقش دنیا میں قائم ہو جائے۔پس جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نقش قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے آپ کے اخلاق کو قائم کرنا اس کے ذمہ ہے۔آپ کے دلائل کو قائم رکھنا ہمارے ذمہ ہے۔آپ کی قوت قدسیہ اور قوت اعجاز کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے۔آپ کے نظام کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے وہاں آپ کے طرز تحریر کو قائم رکھنا بھی جماعت کے ذمہ ہے“۔اس ضمن میں حضور نے اپنا تجربہ یہ بتایا کہ: میں نے ہمیشہ یہ قاعدہ رکھا ہے۔خصوصا شروع میں جب مضمون لکھا کرتا تھا۔پہلا مضمون جو میں نے تشخیذ میں لکھا وہ لکھنے سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو پڑھاتا اس رنگ میں لکھ سکوں اور آپ کی وفات کے بعد جو کتاب میں نے لکھی اس سے پہلے آپ کی تحریروں کو پڑھا اور میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے میری تحریر میں ایسی برکت پیدا ہوئی کہ ادیبوں سے بھی میرا مقابلہ ہوا اور اپنی قوت ادبیہ کے باوجود انہیں نیچا دیکھنا پڑا۔(الفضل 16 جولائی 1931 ص5) اردو سیکھنے کے لئے حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنے کی تحریک 23 جولائی 1933 ء کو طلباء جامعہ احمدیہ ومدرسہ احمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تحریک فرمائی کہ احمدی طلباء کو اردو سیکھنے کے لئے حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنی چاہئیں اس تعلق میں یہ بھی ارشاد فرمایا۔