خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 151 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 151

151 قیام مساجد کے لئے تحریکات حضرت مصلح موعودؓ کو قیام نماز کے ساتھ تعمیر مساجد کی طرف بھی خاص توجہ تھی اور آپ کے دور خلافت میں قریباً 311 مساجد تعمیر ہوئیں یا ان میں توسیع ہوئی۔نئی تعمیر ہونے والی مساجد میں سب سے اہم مسجد فضل لندن ہے جس نے تاریخ احمدیت بلکہ تاریخ اشاعت اسلام میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔مسجد فضل لندن انگلستان میں جماعت احمدیہ کا با قاعدہ مشن 1914ء سے کام کر رہا تھا مگر اپنا مشن ہاؤس اور مسجد نہ تھی۔سیدنا حضرت خلیفہ المسح الثانی نے لندن میں مسجد کی تعمیر کے لئے احباب جماعت کو مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تحریک کرنے کے لئے 6 جنوری 1920ء کو ایک مضمون تحریر فرمایا۔اس میں حضور انور نے اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انگلستان میں کامیابی کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری ہے، وہاں کے مبلغین اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ تبلیغ کے فریضہ کو کماحقہ ادا کرنے کے لئے اس ملک میں مسجد کی تعمیر کرنا ضروری ہے۔تاکہ لوگوں کی توجہ کو زیادہ مؤثر رنگ میں اسلام کی طرف منتقل کیا جاسکے۔حضور نے فرمایا کہ ہمارے مبلغین کی یہ درخواست واقعی قابل توجہ ہے۔مگر میرے نزدیک اپنی مسجد بنانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسجد میں کچھ خاص برکات ہیں جو بغیر مسجد کے حاصل نہیں ہوتیں۔(انوار العلوم جلد 5 ص3) اس سلسلہ میں تحریک کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔یا درکھیں انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کا مرکز بن رہا ہے۔اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس پر سے پانچ وقت لا الہ الا اللہ کی صدا بلند ہو کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جس کے نیک ثمرات نسلاً بعد نسل پیدا ہوتے رہیں گے اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔وہ مسجد ایک نقطہ مرکزی ہوگی جس میں سے نورانی شعاعیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کر (انوار العلوم جلد 5 ص4) دیں گی۔