خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 145 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 145

145 (خطابات محمود جلد 16 ص758) وہاں گرفتاری کے بغیر تبلیغ کر سکتے تھے تو وہ فوراً بول اٹھا کہ اب آپ کوئی ملک بتادیں۔میں وہاں چلا جاؤں گا۔اس نوجوان کی والدہ زندہ ہے۔لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار تھا کہ بغیر والدہ کو ملے دوسرے کسی ملک کی طرف روانہ ہو جائے۔ہاتھ سے کام کرنے کے مطالبہ پر جماعت کے افراد نے خاص توجہ دی۔چنانچہ اس ضمن میں مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلباء نے اولیت کا شرف حاصل کیا اور 13 دسمبر 1934 ء کو قادیان کے اندرونی حصہ سے ایک ہزار شہتیر یاں سالانہ جلسہ گاہ تک پہنچائیں۔(الفضل 16 دسمبر 1934ء) 1936 ء سے اس مطالبہ کے تحت اجتماعی وقار عمل کا سلسلہ جاری کیا گیا اور اب جماعت کی پہچان بن چکا ہے۔جہاں تک قادیان میں مکان بنانے کا تعلق تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت کے طرز عمل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے شروع 1936 ء میں فرمایا: جماعت نے اس معاملہ میں بہت کچھ کام کیا ہے۔چنانچہ اب دوسو مکان سالانہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں بن رہا ہے اور بہت سے دوست زمینیں بھی خرید رہے ہیں۔جماعت احمد یہ اگر چہ ہمیشہ غلبہ اسلام کے لئے دعاؤں میں مصروف رہتی تھی مگر تحریک جدید کے مطالبات کے ضمن میں حضور نے جو خاص تحریک فرمائی اس کی بنا پر جماعت میں خاص جوش پیدا ہو گیا اور احباب جماعت نے خدا تعالیٰ کے سامنے جبین نیاز جھکانے میں خاص طور پر زور دینا شروع کیا اور نمازوں میں عاجزانہ دعاؤں کا ذوق و شوق پہلے سے بہت بڑھ گیا اور جماعت میں ایک نئی روحانی زندگی پیدا ہوگئی۔جنوری 1935 ء سے لے کر نومبر 1935 ء تک صوبہ کے پانچ اضلاع کا مکمل تبلیغی سروے کیا گیا جو اپنی نوعیت کی جدید چیز تھی۔(الفضل 20 نومبر 1935ء) یہ کام سائیکلوں کے ذریعہ سے کیا جاتا تھا۔ابتداء میں چار سائیکل سوار بھجوائے گئے ایک کے پاس اپنی ذاتی سائیکل تھی۔دوسائیکلیں ہدیہ اور ایک سائیکل دفتر نے خرید کی تھی۔11 جنوری 1935ء کو حضور نے تحریک فرمائی کہ سولہ سائیکلوں کی فوری ضرورت ہے۔اس پر جماعت نے اس کثرت سے سائیکلیں بھیج دیں کہ آئندہ سائیکل نہ بھجوانے کی ہدایت کرنا پڑی۔اس معاملہ میں جماعت احمد یہ دہلی