خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page xv of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page xv

iv میں مختلف عناوین کے تابع خلفاء کی تحریکات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔نیز بعد میں آنے والے خلفاء نے ان تحریکوں میں حسن کے جو مزید رنگ بھرے اور ان تحریکوں نے جو اثرات پیدا کئے ان کا بیان بھی شامل کر دیا گیا ہے۔یہ تحریکات احمدیت کے شجر پر بہار کے وہ پھل پھول ہیں جو دور خزاں میں بھی رونق چمن بنے رہتے ہیں اور خدا ان میں ایسی برکت ڈالتا ہے جو الہی تقدیروں ہی کی فسوں کاری ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔سید نا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ المسیح الرابع نے 29 جولا ئی 1984ء کو خدام الاحمدیہ کے یورپین اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ جب بھی کوئی تحریک جماعت احمدیہ کے کسی بھی امام کے دل میں ڈالتا ہے تو اس کے متعلق آپ کو پوری طرح مطمئن ہونا چاہئے کہ ضرور کوئی الہی اشارے ایسے ہیں جو مستقبل کی خوش آئند باتوں کا پتہ دے رہے ہیں اور وہ تحریک جو بظاہر معمولی سی آواز سے اٹھی نظر آتی ہے ایک عظیم الشان عمارت میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔جس تحریک میں آپ اس لئے حصہ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ مسیح موعود کے خلیفہ کی تحریک ہے آپ دیکھیں گے کہ اس تحریک میں اتنی عظیم الشان برکتیں پڑیں گی جو آپ کے (ماہنامہ خالد ر بوه جون 1986 ص 21 تصور سے بالا ہوں گی۔اور آئندہ بیان کردہ تمام تحریکات اس دعوی کی صداقت پر گواہ ہیں۔یہ تحریکات اور ان کے ثمرات خلافت کی برکات کا منہ بولتا ثبوت بلکہ خلافت احمدیہ کی تاریخ کا آئینہ ہیں۔ان تحریکات کے بیان میں یہ امر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ایک ہی مضمون اور عنوان سے متعلق ایک خلیفہ کی تمام تحریکات کو اکٹھا کر دیا جائے اور زمانی ترتیب کے ساتھ اس کے ارتقائی مراحل کا ذکر کیا جائے۔نیز ہر تحریک جو کسی خلیفہ نے شروع کی اس کی خلافت کے اختتام تک اس کی کیفیت درج کر دی جائے۔نیز اس کی تازہ ترین صورتحال بھی بیان کی جائے۔البتہ تمام خلفاء کی عظیم الشان اور دیر پا اثر رکھنے والی تحریکات کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے الگ بیان کیا گیا ہے۔