خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 60
60 رورت سے اپنے دلوں کو صاف کرو بلکہ اس امر کو بھی مدنظر رکھو کہ کسی مظلوم کا معافی مانگ لینا ایسی بات نہیں جو تمہارے لئے خوشی کا موجب ہو سکے بلکہ خوشی صرف اسی کے لئے ہے جس نے معافی مانگی اور تمہیں خوشی اس وقت حاصل ہوگی جب تم اپنے خدا کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اگر دوسروں کے حقوق کو تم نے غصب کیا ہوا ہے تو وہ حقوق ادا کر دو اور اگر تم پر کسی کا مالی یا جانی یا اخلاقا حق ہے تو وہ اسے دید و۔ورنہ اگر تم دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے تو خواہ دوسرا شخص تم سے ہزار معافی مانگے اس کا درجہ بڑھتا جائے گا لیکن تمہارا جرم اور گناہ بھی ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا۔کیونکہ وہ شخص میرے کہنے پر تمہارے پاس گیا اور اس نے مظلوم ہونے کے باوجود تم سے معافی مانگی مگر تم نے باوجود ظالم ہونے کے اور باوجود اس کے معافی مانگ لینے کے اس کے حقوق کی ادائیگی کا خیال نہ کیا اور تم نے اپنے دل میں یہ سمجھ لیا کہ وہ نیچا ہو گیا۔پس اپنے نفوس کو اس غرور میں مبتلاء نہ ہونے دو کہ ہم نے دوسرے کو نیچا دکھا دیا۔کیونکہ وہ معافی مانگ کر نیچا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اونچا ہو گیا۔کیونکہ اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور خلیفہ وقت کی بات مانی مگر تم جو اس وقت اپنے آپ کو اونچا سمجھ رہے ہو دراصل نیچے گر گئے جس طرح انسان جتنا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں جھکتا ہے۔خدا اس کو اوپر اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے بھائی سے معافی مانگتا ہے وہ نیچے نہیں گرتا بلکہ اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور خدا کے حضور بہت بلند ہو جاتا ہے۔الفضل 4 فروری 1932 ء ص 5) کچھ عرصہ بعد جبکہ جماعتی مخالفت زوروں پر تھی جماعت کے ایک طبقہ میں اندرونی مناقشات نے پھر سر اٹھایا اور اس تحریک کے اثرات زائل ہوتے نظر آئے تو مقدس امام نے 26 مئی 1935 ء کو پھر توجہ دلائی کہ: کوئی احمق ہی اس وقت اپنے بھائی سے لڑ سکتا ہے۔جب کوئی دشمن اس کے گھر پر حملہ آور ہو ایسے نازک وقت میں اپنے بھائی کی گردن پکڑنے والا یا تو پاگل ہو سکتا ہے یا منافق۔ایسے شخص کے متعلق کسی مزید غور کی ضرورت نہیں وہ یقیناً یا تو پاگل ہے اور یا منافق اس لئے آج چھ ماہ کے بعد میں پھر ان لوگوں سے جنہوں نے اس عرصہ میں کوئی جھگڑا کیا ہو۔کہتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں تو بہ کریں۔ورنہ خدا کے رجسٹر سے ان کا نام کاٹ دیا جائے گا اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔منہ کی احمدیت انہیں ہرگز ہرگز نہیں بیا