خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 587 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 587

587 صفائی اور شجر کاری کے متعلق تحریکات ترقی کا پہلا زینہ صفائی اور نظافت ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے اسے ایمان کا نصف حصہ قرار دیا ہے۔آپ کا لایا ہوا دین پہلا مذہب ہے جس نے ماحول کی صفائی کو عبادت کا درجہ دیا اور شجر کاری کو معاشرے کا باقاعدہ حصہ بنایا۔فرانس کا پہلا ٹائلٹ 1582ء میں بنا اور 1902ء میں پیرس کے لوگوں کو نہانے پر مجبور کرنے کے لئے با قاعدہ قانون سازی کی گئی جبکہ قرطبہ کی اسلامی حکومت نے 785ء میں شہر کا پہلا سیوریج سسٹم بنایا تھا اور اموی دور میں قرطبہ کے ہر گھر میں ٹائلٹ اور غسل خانہ ہوتا تھا۔15 ویں صدی میں اندلس کی اسلامی ریاست کے زوال کے بعد غرناطہ کے محل سے بادشاہ فرڈینینڈ نے ایک غسل خانہ اکھاڑا اور ملکہ از ابیلہ کو تحفہ میں دیا تھا۔(روز نامہ ایکسپریس 13 اکتوبر 2006ء) صفائی کی شاندار دینی روایات کو قائم رکھنے کے لئے خلفاء سلسلہ مسلسل تاکید کرتے رہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی صفائی کے متعلق متعدد بار تا کید فرمائی۔مرکز سلسلہ کے لئے خصوصی تحریک قادیان اور ر بوہ سمیت تمام احمدی آبادی کو خصوصیت سے صفائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے حضور نے خطبہ جمعہ 23 راپریل 2004ء میں فرمایا:۔ربوہ میں، جہاں تقریباً 98 فیصد احمدی آبادی ہے، ایک صاف ستھرا ماحول نظر آنا چاہئے۔اب ما شاء اللہ تزئین ربوہ کمیٹی کی طرف سے کافی کوشش کی گئی ہے۔ربوہ کوسرسبز بنایا جائے اور بنا بھی رہے ہیں۔کافی پودے، درخت گھاس وغیرہ سڑکوں کے کنارے لگائے گئے ہیں اور نظر بھی آتے ہیں۔اکثر آنے والے ذکر کرتے ہیں اور کافی تعریف کرتے ہیں۔کافی سبزہ ربوہ میں نظر آتا ہے۔لیکن اگر شہر کے لوگوں میں یہ حس پیدا نہ ہوئی کہ ہم نے نہ صرف ان پودوں کی حفاظت کرنی ہے بلکہ ارد گرد کے ماحول کو بھی صاف رکھنا ہے تو پھر ایک طرف تو سبزہ نظر آرہا ہوگا اور دوسری طرف کوڑے کے ڈھیروں سے بد بو کے بھبھا کے اٹھ رہے ہوں گے۔اس لئے اہل ربوہ خاص توجہ دیتے ہوئے اپنے گھروں کے