خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 558
558 اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یتامیٰ کی خبر گیری کا بڑا اچھا انتظام موجود ہے۔مرکزی طور پر بھی انتظام جاری ہے گو اس کا نام یکصد یتامیٰ کی تحریک ہے لیکن اس کے تحت سینکڑوں یتامیٰ بالغ ہو کر پڑھائی مکمل کر کے کام پر لگ جانے تک ان کو پوری طرح سنبھالا گیا۔اسی طرح لڑکیوں کی شادیوں تک کے اخراجات پورے کئے جاتے رہے اور کئے جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اس میں دل کھول کر امداد کرتی ہے اور زیادہ تر جماعت کے جو مخیر احباب ہیں وہی اس میں رقم دیتے ہیں۔الحمد للہ ، جزاک اللہ ان سب کا شکریہ۔اب میں باقی دنیا کے ممالک کے امراء کو بھی کہتا ہوں کہ اپنے ملک میں ایسے احمدی بیتامی کی تعداد کا جائزہ لیں جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں، پڑھائی نہ کر سکتے ہوں ، کھانے پینے کے اخراجات مشکل ہوں اور پھر مجھے بتائیں۔خاص طور پر افریقن ممالک میں ، اسی طرح بنگلہ دیش ہے، ہندوستان ہے، اس طرف کافی کمی ہے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تو با قاعدہ ایک سکیم بنا کر اس کام کو شروع کریں اور اپنے اپنے ملکوں میں یتامیٰ کو سنبھالیں۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت میں مالی لحاظ سے مضبوط حضرات اس نیک کام میں حصہ لیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے سنبھالنے میں جو اخراجات ہوں گے ان میں کوئی کمی نہیں پیش آئے گی۔لیکن امراء جماعت یہ کوشش کریں کہ یہ جائزے اور تمام تفاصیل زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک مکمل ہو جائیں اور اس کے بعد مجھے بھجوائیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو توفیق دے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم بیتامی کا جو حق ہے وہ ادا کر سکیں۔(الفضل 19 نومبر 2004ء) غریب بچیوں کی شادی کے لئے امداد کی تحریک حضور نے شادی بیاہ کے موقع پر اسراف سے بچنے کی ہدایت کی اور فرمایا کہ ان مواقع پر غریب بچیوں کی شادی کے لئے رقم فراہم کی جائے۔حضور نے خطبہ جمعہ 3 جون 2005 ء میں فرمایا:۔جولوگ باہر کے ملکوں میں ہیں اپنے بچوں کی شادیوں پر بے شمار خرچ کرتے ہیں۔اگر ساتھ ہی پاکستان ، ہندوستان یا دوسرے غریب ممالک میں غریب بچوں کی شادیوں کے لئے کوئی رقم مخصوص کر دیا کریں تو جہاں وہ ایک گھر کی خوشیوں کا سامان کر رہے ہوں گے وہاں یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہوگا جو ان کے بچوں کی خوشیوں کی بھی ضمانت ہو گا۔اللہ تعالیٰ نیکیوں کو ضائع نہیں کرتا۔پھر بعض صاحب