خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 550
550 سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔مریضوں کی عیادت کرنا بھی خدا تعالیٰ کے قرب کو پانے کا ہی ایک ذریعہ ہے۔ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے خاص طور پر جو ذیلی تنظیمیں ہیں ان کو میں ہمیشہ کہتا ہوں۔خدمت خلق کے جوان کے شعبے ہیں۔لجنہ کے، خدام کے، انصار کے ایسے پروگرام بنایا کریں کہ مریضوں کی عیادت کیا کریں، ہسپتالوں میں جایا کریں۔اپنوں اور غیروں کی سب کی عیادت کرنی چاہئے اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ بھی ایک سنت کے مطابق ہے اور ہمیشہ اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کے ذریعے ہم اختیار کریں۔(روزنامه الفضل 8 نومبر 2005ء) امداد مریضان کی تحریک عالمی تنظیم آکسفیم کے مطابق دنیا کی 85 فیصد آبادی غربت کی وجہ سے مہنگی ادویات تک رسائی نہیں رکھتی۔اور مہلک امراض کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔(روز نامہ ایکسپریس 28 نومبر 2007ء) حضور نے خطبہ عید الفطر 13 اکتوبر 2007ء میں فرمایا :۔امداد مریضان کی ایک مد ہے اس میں پاکستان میں تو باقاعدہ طریقہ اور نظام رائج ہے جس کے تحت مریضوں کو جو ہسپتال میں آنے والے ہیں، علاج سے مدد کی جاتی ہے قادیان میں بھی اور اس کے علاوہ دنیا میں بھی رائج ہے لیکن با قاعدہ قادیان اور ربوہ میں زیادہ ہے۔دوائیاں اور علاج اب اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب آدمی کی پہنچ سے یہ معاملہ بہت دور ہو چکا ہے، بعض علاج اس لئے نہیں کرواتے کہ پیسے نہیں ہوتے تو باوجود خواہش کے بعض دفعہ محدود وسائل کی وجہ سے ایسے مریضوں کی پوری طرح مدد نہیں کی جاسکتی۔ایسے احباب جو مالی حالت میں بہتر ہیں، وہ جن کو خود یا جن کے مریضوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شفا دی ہے، مریضوں کی شفایابی پر اپنی حیثیت کے مطابق اگر مریضوں کے لئے مدد کیا کریں تو بہت بڑی تعداد ضرورت مند مریضوں کی جو ہے ان کی مدد ہو سکتی ہے، بچوں کی پیدائش کے مرحلے سے عورتیں گزرتی ہیں، بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے، اس شکرانے کے طور پر مریضوں کی مدد کا خیال آنا چاہئے ،صرف مٹھائیاں کھانا کھلا نا ہی کام نہ ہو۔