خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 542 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 542

542 پھر U۔K کی جماعت نے غیر معمولی قربانیاں دیں انصار اللہ نے بھی لجنہ نے بھی اور دوسری جماعت کے افراد نے بھی۔تو یہ جو ہر جگہ غیر معمولی قربانی کے نظارے ہمیں یہاں بھی نظر آتے ہیں“۔خطبات مسر در جلد 3 ص 403 تا 410 ) مسجد برلن کی تحریک خلافت ثانیہ کی تحریکات میں مسجد برلن کا ذکر گزر چکا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے 2006ء کے آخر اور 2007ء کے شروع میں جرمنی کا دورہ فرمایا اور 2 جنوری 2007 ء کو مسجد برلن کا سنگ بنیاد رکھا۔حضور نے دورہ اور اس تقریب کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ جمعہ 12 جنوری 2007ء میں فرمایا:۔”سب سے بڑا بریک تھرو (Break Through) یا بڑی کامیابی جو ہے وہ مسجد برلن کا سنگ بنیاد تھا۔وہاں مخالفت زوروں پر ہے۔ابھی بھی مخالفین یہی کہتے ہیں کہ ہم اس مسجد کو بنے نہیں دیں گے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔گو کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ہر طرح سے مددفرماتا ہے اور یہ نظارے ہم دیکھتے رہے۔پہلے امیر صاحب کا خیال تھا کہ ایک مہینہ پہلے جلدی آ جاؤں تا کہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائے۔لیکن جب دسمبر میں میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت تک ان کو مسجد کی تحریری اجازت نہیں ملی تھی۔تحریری اجازت بھی میرے جانے کے بعد انہیں ملی ہے تو اس کے بعد کوئی قانونی روک نہیں تھی۔اس کے بغیر اگر ہم جاتے تو کئی قباحتیں پیدا ہوسکتی تھیں اور بنیا درکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔پھر وہاں کے میئر اور MP آئے اور انہوں نے بھی جماعت کی تعلیم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہمارے لوگوں کی ساری فکریں دور ہو جائیں گی۔جس دن افتتاح تھا جب ہم وہاں گئے ہیں تو چالیس پچاس کے قریب مخالفین تھے جو نعرے لگا رہے تھے۔لیکن جرمنی میں ایک دوسرا گروپ بھی ہمیں نظر آیا۔جب ہم گئے ہیں انہوں نے بھی بینر اٹھایا ہوا تھا اور وہ جماعت احمدیہ کے حق میں تھا کہ یہاں جماعت ضرور مسجد بنائے اور اس میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔جماعت نے ان کو نہیں کہا تھا۔اور نہ وہ جانتے تھے۔خود ہی کھڑے ہو گئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے توڑ کے لئے خود ہی وہاں