خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 497
497 کے لحاظ سے۔اس لئے اس طرف بھی عورتوں کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور زکوۃ ادا کیا کریں بعض جگہ یہ بھی ہے کہ کسی غریب کو پہنے کے لئے زیور دے دیا جائے تو اس پر زکوۃ نہیں ہوتی لیکن آجکل اتنی ہمت کم لوگ کرتے ہیں کسی کو دیں کہ پتہ نہیں اس کا کیا حشر ہو اس لئے چاہئے کہ جو بھی زیور ہے، چاہے خود مستقل پہنتے ہیں یا عارضی طور پر کسی غریب کو پہننے کے لئے دیتے ہیں احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس پر زکوۃ ادا کر دیا کریں“۔بد رسوم ترک کرنے کی تحریک : حضور نے خطبہ جمعہ 10 /اکتوبر 2003ء میں فرمایا:۔روزنامه الفضل 24 اگست 2004 ء ) عورتوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔صرف اپنے علاقہ کی یا ملک کی رسموں کے پیچھے نہ چل پڑیں۔بلکہ جہاں بھی ایسی رسمیں دیکھیں جن سے ہلکا سا بھی شائبہ شرک کا ہوتا ہو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ کرے تمام احمدی خواتین اسی جذبہ کے ساتھ اپنی اور اپنی نسلوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔ہمارے ملکوں میں، پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں مسلمانوں میں بھی یہ روراج ہے کہ لڑکیوں کو پوری جائیداد نہیں دیتے۔پوری کیا، دیتے ہی نہیں۔خاص طور پر دیہاتی لوگوں میں، زمینداروں میں۔اس کا ایک نمونہ ہے چوہدری نصر اللہ خان صاحب کا۔چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری ہمشیرہ صاحبہ مرحومہ کو اس زمانہ کے رواج کے مطابق والد صاحب نے ان کی شادی کے موقع پر بہت سارا جہیز دیا اور پھر آپ نے یہ وصیت بھی کر دی کہ آپ کا ورثہ اسلام کے مطابق تقسیم بھی ہوگا، لڑکوں میں بھی اور لڑکیوں میں بھی۔چنانچہ اس کے مطابق ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی کو بھی اسلام کے مطابق حصہ دیا گیا۔( روزنامه الفضل یکم جون 2004 عص3) شادی بیاہ کے موقع پر لغویات سے بچنے کی تحریک: خطبہ جمعہ 25 نومبر 2005ء میں حضور نے شادی بیاہ پر لغو تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔” جو شکایات آتی ہیں ایسے گھروں کی ان کو میں تنبیہ کرتا ہوں کہ ان لغویات اور فضولیات سے بچیں۔پھر ڈانس ہے، ناچ ہے، لڑکی کی جو رونقیں لگتی ہیں اس میں یا شادی کے بعد جب لڑکی بیاہ کر لڑکے کے گھر جاتی ہے وہاں بعض دفعہ اس قسم کے بیہودہ قسم کے میوزک یا گانوں کے اوپر ناچ ہورہے ہوتے ہیں اور شامل ہونے والے عزیز رشتہ دار اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس کی کسی صورت میں