خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 465
465 آپ کی خواہش تھی کہ ربوہ میں دل کے علاج کے لئے بہت اعلیٰ درجہ کا ادارہ بنایا جائے۔آپ کی یہ خواہش اور تمنا خلافت خامسہ میں پوری ہوئی اور طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ نے 15 ستمبر 2007 ء سے کام شروع کر دیا ہے۔سیدنا بلال فنڈ الہی جماعتوں کے ساتھ ابتلا کا تعلق ایک لازمی تعلق ہے اور زندہ جماعتیں ابتلاؤں کے وقت گھبرایا نہیں کرتیں اور نہ ہی ابتلاء کے ایام میں اپنے زخمیوں، اسیروں اور جان کا نذرانہ دینے والوں سے منہ موڑا کرتی ہیں۔اس عظیم الشان حقیقت کے پس منظر میں سیدنا بلال فنڈ کی تحریک کا آغاز ہوا۔حضور نے فرمایا:۔الہی جماعتوں کی زندگی کی ضمانت اس بات میں ہے کہ ان کے قربانی کرنے والوں کو اپنے پسماندگان کے متعلق کوئی فکر نہ رہے اور یہ حقیقت اتنی واضح اور کھلی کھلی ہے کہ ہر ایک کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ ہم بطور جماعت کے زندہ ہیں اور بطور جماعت کے ہمارے سب دکھ اجتماعی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کسی جماعت میں یہ یقین پیدا ہو جائے تو اس کی قربانی کا معیار عام دنیا کی جماعتوں سے سینکڑوں گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔آپ نے سید نابلال فنڈ میں حصہ لینے والوں کے لئے فرمایا :۔” جو شخص اس میں حصہ لے گا وہ اس بات کو اعزاز سمجھے گا کہ مجھے جتنی خدمت کرنی چاہئے تھی اتنی نہیں کی۔۔۔اس لحاظ سے سب باتیں سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے اور آج اس تحریک کا اعلان (خطبہ جمعہ 14 مارچ 1986 ء ) | کرتا ہوں“۔اس تحریک میں حضور نے اپنی طرف سے دو ہزار پاؤنڈ دینے کا اعلان فرمایا نیز بتایا کہ انگلستان کی جماعت کے ایک دوست پہل کر گئے ہیں کہ باقی تو اس کی بابت مشورے دیتے رہے لیکن انہوں نے ایک ہزار پاؤنڈ کا چیک بھیجوا دیا۔9 جون 1986ء کو خطبہ عید الفطر میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے فرمایا کہ سیدنا بلال فنڈ کی تحریک میں نے کی تھی۔جماعت نے والہانہ لبیک کہا۔کئی اسیران کو اس فنڈ سے امداد دی گئی مگر انہوں نے